Jump to content
URDU FUN CLUB

Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 10/15/2019 in all areas

  1. 7 likes
    گاڑی کی وائرنگ میں کوئی شارٹ سرکٹ ہوا اور چلتی گاڑی کے سٹیرنگ کے نیچے سے چنگاریاں نکلنے لگیں اور وہ جلد ہی آگ پکڑ گئیں۔ اس آگ نے فائر بریگیڈ کے آنے تک پورا انٹیریئر راکھ کر دیا۔ میں تب تک باہر نکل چکا تھا۔میں نے لیپ ٹاپ اور موبائل بھی نکال لیا تھا۔ معمولی ہاتھ پہ جھلسنے سے جھالے بن گئے تھے۔ باقی کوئی بڑی چوٹ نہیں ہے۔ گاڑی ورک شاپ پہ اسے ٹھیک ہونے میں دس دن لگ سکتے ہیں۔ میرے پاس دوسری گاڑی ہے جو ان دنوں استعمال کر رہا ہوں۔
  2. 6 likes
    ایک لڑکی جس کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ میں اس کی لیتا رہا تھا جب اس کی فیملی ہمارے گھر پہ رہتی تھی۔ وہ پہلی لڑکی تھی جس پہ میں نے تسلی سے جنسی تجربہ حاصل کیا اور بڑے سکون سے اس کی لیتا رہا۔اس کا نام ہم صائمہ رکھ لیتے ہیں کیونکہ اس سے ملتا جلتا تھا۔ اسے زیادہ تر میں گھر کے گیراج میں چودتا تھا۔ وہ اوپر والے پورشن سے گیراج میں آ جاتی اور یہاں ایک سٹور تھا جس میں عموماً ننگے فرش پہ ہی لٹا کر اس کی لیتا تھا۔کبھی کبھار وہ اکیلی بھی ہوتی کیونکہ اس کی بھابھی کہیں گئی ہوتی اور اسے گھر پہ چھوٹے بچوں کے پاس چھوڑ جاتی۔تب سکون سے اس کے پاس گھنٹہ دو بیٹھ کر سیکس ہوتا تھا۔میں نے اس پہ ساری سیکس پوزیشنز ٹرائی کی تھیں۔آگے پیچھے سے ، اوپر لٹا کر، نیچے لٹا کر اور کھڑا کر کے، غرض جس طرح دل چاہتا تھا اس کو چودتا تھا۔میری ٹائمنگ بھی اسی پہ سیٹ ہوئی تھی اور اسی پہ میں نے انزال سے قبل رکنے کا تجربہ حاصل کیا تھا۔ اس کے اور میرے درمیان بات چیت بھی کم ہوتی تھی۔لڑکی نے کبھی کسی بات کا جواب نہیں دیا تھا ، میں پوچھتا کہ مزا آ رہا ہے تو کوئی جواب نہ دیتی۔کچھ بھی پوچھتا تو خاموشی سے منہ پھیر لیتی۔ مگر جب بھی بلاتا چپ چاپ آ جاتی اور کئی بار بنا میرے بلائے بھی آ جاتی۔میں دروازہ کھولتا وہ موجود ہوتی، میں اسے جہاں کا چانس بنتا، گیراج یا گھر میں کسی اور جگہ تو وہیں اس کو چود کر فارغ کر کے بجھوا دیتا۔ اس کی بڑی بہن کی شادی تھی اور وہ خوب تیار ہو کر گھوم رہی تھی۔ میرا اسے چودنے کا بڑا دل کرنے لگا کیونکہ وہ پہلی بار اتنے مناسب حلیے میں تھی۔مگر گھر میں مہمان تھے تو کوئی چانس نہیں بن رہا تھا۔ بہرحال میں نے اسے دو چار بار بلایا مگر وہ نہ آئی۔ مجھے بھی خوب سیکس کی طلب تھی کچھ اس کی تیاری نے بھی بھڑکایا ہوا تھا کہ میں بار بار اس کے اردگرد منڈلا رہا تھا۔آخرکار وہ مجھے مل گئی تو میں نے اسے چھت کی سیڑھیوں پہ جلدی جلدی میں چود دیا۔ یہ سیکس اس قدر برا ثابت ہوا کہ اس کے پیریڈز مس ہو گئے اور مجھے باقاعدہ حمل ضائع کرنے کی دوا لا کر دینا پڑی۔جب انھوں نے گھر چھوڑا تو ایک گلی پیچھے ہی کرائے پہ گھر لے لیا۔ میرا بھی لاہور ایڈمشن ہو گیا تو میں لاہور آ گیا مگر اکثر سیکس کی طلب ہوتی تو جب گھر جاتا تو ان کے گھر کا چکر لگاتا کہ شاید سین بن جائے۔ سیکس کا تو نہیں بنا کبھی، ایک دو بار فورپلے کا سین بن گیا۔جب بھی اس کی ملی تبھی مل پائی جب وہ ہمارے گھر آئی۔ میں جب گھر آتا صائمہ کے گھر جا کر اسے اشارہ دے دیتا کہ میں آیا ہوا ہوں، وہ کسی وقت آ جاتی اور اکثر گیراج میں چد کر ہی اندر جاتی۔ خیر، اس لڑکی صائمہ کے متعلق ایک واقعہ بتانا چاہ رہا تھا کہ ایک بار میں گھر پہ اکیلا تھا اور ایک لڑکی جو ہمارے پڑوسیوں کی رشتہ دار تھی اور جب بھی ان کے گھر آتی ہمارے گھر چکر لگاتی۔ وہ بھی لاہور میں پڑھتی تھی اور میرا اس سے وقتی تعلق لاہور سے تھا۔ وہ گھر پہ آ گئی،اسے ہم کرن کہتے ہیں۔مجھے اندازہ تھا کہ یہ بھی مان جائے گی۔میں اسے بیڈروم میں لے کر بیٹھا ہوا تھا اور باتیں ہیجان انگیزی کی طرف جا رہی تھیں۔ قریب تھا کہ میں پیش قدمی کر دیتا اور اسے چودنے کی کوشش کرتا کہ بیل بجی اور صائمہ آ گئی جس کا اوپر ذکر کیا ہے۔اسے معلوم تھا کہ میں اکیلا ہوں تو وہ کسی بہانے سے چدنے آ گئی تھی۔میں مشکل میں پھنس گیا کہ صائمہ کی لوں یا کرن کی؟ صائمہ کی تو کنفرم تھی کہ بس اس کو لے جانا ہے اور چود دینا ہے۔ جبکہ کرن کے ساتھ صرف اس درجے بےتکلفی ہے کہ اس پہ ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ خیر،دل نے کرن کو ووٹ دیا کہ اس کی تو سالوں لی ہے تو اس کی لینے کی کوشش کی جائے۔اس لیے میں نے اسے واپس بھیج دیا کہ گھر میں مہمان ہیں۔ واپس آیا تو کرن نے پوچھا کون ہے؟ میں نے بتایا کہ فلاں لڑکی تھی اور کسی کام سے آئی تھی اب واپس چلی گئی ہے۔ وہ کچھ پریشان تھی اور بولی؛ میں چلتی ہوں، ہم اکیلے ہیں اور کسی کو پتا چلا تو ایسے ہی باتیں بنیں گے۔ میں نے روکنے کی کوشش کی مگر وہ جانے کے لیے تیار ہو گئی۔میں نے کہا: اچھا مل تو لو۔ اسی بہانے میں نے گلے لگانے کی کوشش کی تو اس نے مزاحمت کی اور بولی؛ایسا مت کرو۔میں ایسی لڑکی نہیں ہوں اور میں ایسا نہیں کر سکتی۔ مگر پھر بھی کرتے کراتے میں نے اس کا گال کو چوم لیا تو وہ ناراض ہو کر چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد میں صائمہ کے گھر گیا مگر اب اس کا آنا ممکن نہیں رہا تھا۔وہ میرے گھر کسی کام کا بہانہ کر کے آئی تھی اور اب بتا دیا تھا کہ گھر پہ میں اکیلا تھا۔ یوں مجھے کسی کی نہ مل سکی۔صائمہ کی تو اس کے بعد بھی ملتی رہی مگر کرن کی کبھی نہ مل سکی، مگر فون پہ بڑا عرصہ رابطہ رہا۔
  3. 5 likes
  4. 4 likes
    اس کو ناپسند کرنے کی وجہ اس کا دیہاتی ہونا تھا اور بالکل بھی بات نہ کرنا۔ جبکہ میں جس اکیڈمی یا سکول میں جاتا تھا، وہاں سبھی ماڈرن پڑھی لکھی لڑکیاں ہوتی تھیں تو پسند کا معیار الگ تھا۔ شکل بری نہیں تھی مگر وہ بالکل ہی سادہ تھی اور لباس بھی بالکل ہی سادہ ہوتا تھا۔ میں ان پہ بھی سمجھوتہ کر لیتا اگر وہ باتیں کرتی۔ تھوڑی ناز و ادا کا مظاہرہ کرتی یا تھوڑا نخرہ تھوڑا رسپانس دیتی۔ مگر وہ بس لیٹی رہتی اور جب میں ہٹ جاتا تو اٹھ کر کپڑے پہنتی اور چلی جاتی۔ میں نے پہلا کنوارہ پن اسی دور میں توڑا تھا جب صائمہ کی لیا کرتا تھا۔ صائمہ کی لینے سے مجھ میں لڑکی پہ پیش قدمی کرنے کا حوصلہ آنے لگا۔ میں نے کوششیں کیں اور کامیابی مل گئی۔ جن میں سے ایک تو صائمہ کے بھائی کی سالی تھی اس کی ملی۔وہ بالکل ہی فارغ اور نہایت بدتمیز لڑکی تھی۔ جس کی لینے کے بعد الٹا میں بدمزا ہوا۔ دوسری ایک اکیڈمی کی لڑکی کی ملی۔ اس کا نام ہم ثنا رکھ لیتے ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ میں اکیڈمی میں پڑھتا تھا اور فارغ ہو گیا تھا۔ کورس مکمل تھا بس سوچا کہ ٹیچرز کو گھر پہ ہی صرف ٹیسٹ دے دیا کروں گا۔ اس کے لیے میں نے کیمسٹری کے سر سے بات کی۔ انھوں نے مجھے ایک وقت بتا دیا کہ اس وقت اکیڈمی کی بجائے ان کے گھر آ جایا کروں۔ میں اس وقت جانے لگا، وہ مجھے ٹیسٹ لکھوا دیتے اور چلے جاتے۔ میں ٹیسٹ لکھتا اور رکھ جاتا اور اگلے دن وہ چیک ہو کر مل جاتا۔ جس وقت میں پڑھنے جاتا تھا اسی وقت ایک نقاب پوش لڑکی بھی آتی تھی جس کا بعد میں معلوم ہوا کہ نام ثنا تھا۔وہ ان کی پڑوسن تھی اور مفت میں فزکس اور کیمسٹری پڑھتی تھی۔ تین چار دن تو ثنا سے بالکل بات تو دور نظریں بھی نہ ملائیں۔ ایک دن میں گیا تو سر نہیں تھے اور ثنا موجود تھی۔ سر کی بیوی نے کہا کہ بیٹا یہ نمریکل آتا ہے؟ میں نے کہا ؛ ہاں ۔ تو انھوں نے کہا کہ ثنا کو سمجھا دو۔ میں نے ثنا کو سمجھا دیا۔ اس کے بعد اکثر وہ مجھ سے کوئی نہ کوئی سوال پوچھنے لگی۔ میں ویسے ہی پڑھائی میں بہت اچھا تھا کچھ اس کے سلیبس کی تیاری بھی کر کے جاتا تھا۔ یوں اس کو ایک قسم کا میں نے پڑھانا شروع کر دیا۔ یہیں سے باتیں ہوتے ہوتے ہی میں نے اس کو اپنا پی ٹی سی ایل نمبر دے دیا۔ ایک دن لائیٹ چلی گئی تو میں نے ہاتھ پکڑ لیا تو وہ مائنڈ کر گئی۔ میں نے بھی غصہ کیا اور کہا کہ اگر تم سے اتنا نہیں ہوتا تو مجھ سے بات ہی مت کیا کرو۔ اس نے مجھے رات کو کال کی اور کہنے لگی کہ اچھا !سوری اب نہیں منع کروں گی۔ اس کی اور میری فون پہ بات شروع ہو گئی اور یہیں سے بڑی تیزی سے بات کس کرنے تک پہنچ گئی۔فون پہ ہی پیار محبت کے وعدے ہونے لگے۔ ایک اہم بات یہ ہوئی کہ ان دنوں میں نے صائمہ کی لینی بالکل ترک کر دی تھی۔ ایک دن میں سر کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ سر کے محلے میں فوتگی ہو گئی ہے اور ثنا اکیلی ہے، بس یہ بتانے کے لیے کہ آج چھٹی ہے، کیونکہ سر کی وائف گھر پہ نہیں ہیں۔ مجھے موقع مل گیا اور میں نے پہلے تو کس وغیرہ کی اور پھر اسے کہا کہ سیکس کرتے ہیں۔ اس نے بہت منع کیا مگر میں نے اس کو بڑی مشکل سے راضی کر لیا۔حیرت اس کی تھی کہ اس کو سیکس سے کوئی مسلئہ نہیں تھا وہ کنوارہ پن نہیں کھونا چاہتی تھی۔وہ یہاں تک بولی کہ اوپر رکھ لینا، اندر مت اتارنا۔مگر یہ کیسے ممکن تھا؟قمیض تو اس نے بنا کسی دقت اتروا لی بس شلوار کے معاملے میں اس نے بہت مزاحمت کی۔بار بار روہانسی ہو جاتی، مجھے یہ تھا کہ پہلی بار کوئی ایسی ملی ہے جو معیار کے مطابق ہے۔باقاعدہ پیار محبت والا سین ہے اور گرل فرینڈ کہلائی جا سکتی ہے۔ میں نے اس کی تنگ اور کسی ہوئی چوت پہ لن رکھا تو مجھے لگا کہ جیسے اس میں گھسے گا ہی نہیں کیونکہ وہ خاصی تنگ تھی اور کئی کوششوں کے بعد گھسا، وہ بھی تب جب وہ مکمل گیلی ہو گئی۔ میں نے پردہ بکارت بھی پہلی بار دیکھا تھا۔وہ کنواری تھی اور پہلی بار میں نے کسی لڑکی کی سیل توڑی۔ یقین مانیں تو بالکل بھی اچھا نہیں لگا۔ لڑکی کا خون دیکھنا،اس کا رونا دھونا،درد سے تڑپنا،برا بھلا کہنا، ناراض ہونا اور خود لن کو بھی زور لگانے کی وجہ سے جلن اور تکلیف کا احساس ہونا۔ مگر مجھے پردہ پھٹنے والے جھٹکے کی فیلنگ صاف محسوس ہوئی تھی اور اس جھٹکے سے اس کا رونا اور بلکنا بھی یاد ہے۔میں بھی جلد فارغ ہوا اور جان بوجھ کر میں نے کوشش کی کہ جلد چھوٹ جاؤں کیونکہ اس نے رو رو کر برا حال کر لیا تھا۔ جب میں فارغ ہوا تو وہ بہت سخت ناراض ہوئی اور اس کو چپ کروانے میں بہت دیر لگی۔ میں خود بھی ڈر گیا تھا کہ اب کیا ہو گا۔اس کا خون رک ہی نہیں رہا تھا۔وہ دھو کر آتی تو پھر سے خون نکل آتا۔ بہرحال یہ بالکل بھی اچھا سیکس ثابت نہ ہوا اور سب سے بری بات یہ ہوئی کہ اس نے سرے سے قطع تعلق کر لیا اور میری اب تک اس سے دوبارہ ملاقات نہیں ہو سکی۔ حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ وہ کہاں رہتی ہے اور کہاں اس کا کلینک ہے۔اس کے نام کا بورڈ بھی گزرتے مجھے دکھائی دیتا ہے۔ میں نے سب سے پہلے سیکس کہانی اسی کے متعلق لکھی تھی۔ وہ دس سال پہلے ٹیوشن سیکس کے نام سے پوسٹ کی تھی۔ ذاتی طور پہ میں نے کنواری لڑکی کے ساتھ کو خاص انجوائے نہیں کیا۔ جب جب بھی کیا۔ ایک نفسیاتی احساس برتری تو ہوتا ہے کہ اس لڑکی کا پہلا مرد میں ہوں مگر اس کے علاوہ کوئی خاص جنسی لطف نہیں ملتا۔ بس نارمل سا ہی سیکس ہوتا ہے اور لڑکی کا رسپانس بھی بہت اچھا نہیں ہوتا۔ تین چار بار کرنے کے بعد جا کر وہ کچھ نارمل ہوتی ہے۔
  5. 4 likes
    قسط نمبر 2 میں جلدی سے گہر ایا اور کمرے میں چلا گیامیرے ذہن میں بہت سارے سوالات تہے۔ آخر وہ لوگ کیا کر رہے تھےاور زبیر اپنی للی کیوں اس میں ڈال رہا تھا۔ زبیر کی للی کا سوچ کر مجہے عجیب محسوس ہو رہا تہا مین نہ فیل کیا کہ میری للی میں تہوری سی حرکت ہورہی ہے میں نے شلوار تھوڑی نیچے کی اور اپنی للی کو دیکھنے لگ گیا۔ میری للی اس ٹائم دو ڈھائی انچ کی تہی۔ میں نے دیکھا کہ للی ہلکے سے جھٹکے لے رہی ہےاور جیسے کھڑا ہونے کی کوشش کر رہی ہو۔ مجہے عجیب سا محسوس ہو رہا تہا۔ میں سوچ رہا تہا آخر وہ لوگ کیا کر رہے تھے۔ میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ ۔مجھے آواز آئی علی جاکر نہالو اور آکر کھانا کھائو۔ میں اچانک ہی چونکہ اور جلدی سے بولا جی امی جا رہا ہوں۔ میرا نام علی صفدر ہے اور گھر میں مجھے سب علی بلاتے ہیں۔ گھر میں میں پانچویں نمبر پے ہوں۔ تھوڑا سا معصوم لیکن شارپ سا لڑکا ہوں۔ ہمیشہ سیکھنے کی جستجو ہوتی ہے۔ اس لیے جو چیز بھی نئی دیکھتا فورن پوچھتا یہ کیا ہے۔ لیکن اس بارے میں کس سے پوچھتا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی، میں جلدی سے اتھا اور نہانے چلا گیا۔ باتھروم میں جاکر کپڑے اتارے اور اپنی للی کو دیکھنے لگ گیا۔ اب یہ بیٹھی ہوئی تہی میں نے للی کو ہاتھ سے تہوڑا مسلا اور. پانی کی موٹر چلادی۔ جب زمین کا ٹھنڈا پانی ڈائریکٹ میرے سر پر پڑا تو مزا آگیا۔ میں نہا کر کمرے میں آیا تو امی نے کھانا لگا دیا تھا۔ میں کھانا کھاکر سو گیا۔ شام کو اٹھا اور جلدی سے اسکول کا ہومورک پورا ۔ کیا اور باہر کھیلنے چلا گیا۔ شام کے پانچ ہو رہے تھے۔ ہمارا گرمیوں کا یہی روٹین تہا شام چار بجے اٹھنا اپنا اسکول کا کا کام پورا کرنا اور کھیلنے چلے جانا۔ لیکن مغرب سے پہلے ھر حال میں گھر واپس آنا ہوتا تھا۔ میں باہر گیا تو میرا کزن سھیل جو مجھ سے ایک سال بڑا تہا لیکن تہا میرا قریبی دوست۔ میں نے سوچا سھیل سے پوچھتا ہوں اس بارے میں۔ سھیل نے مجھے آتا دیکھ کر جلدی آئو یار گیم کھیلنے چلیں۔ میں نے بولا یار آج موڈ نہیں چلو کہیتوں کا رائونڈ مارکر آتے ہیں پہلے تو وہ غصے میں دیکہا پھر بولا چلو ٹھیک ہے چلتے ہیں۔ میں نے اسکا ہاتھ پکڑا اورجھولتا ہوا واک پہ نکل گئے۔ ہمارا یہی اسٹائل ہوتا تہا گھومنے کا۔ گھروں سے تھوڑا دور نکل آئے تو میں نے سھیل سے پوچھا یار زبیر بھائی آج عارف کو اپنی للی چسوا رہے تھے اور عارف کے پیچھے بھی ڈال رہے تھے۔ سہیل نے یہ سن کر جلدی سے بولا سچی!!!! بڑا حرامی ہے زبیر اکیلا مال کھال رہا ہے۔ میں نے بولا سہیل وہ کیا کر رہے تھے۔ سہیل۔ یار وہ اسکو چود رہا تہا میں نے فورن بولا اچھا ایسے چودتے ہیں۔ میرے لیے لفظ چودنا نیا نہیں تھا کیوں کہ بڑے لڑکے اکثر ہی ایک دوسرے کو یہی گالی دیتے تھے کہ میں تجھے چود دونگا۔ تیری گانڈ میں لن ڈالوں۔ یہ جملے میرے لیے نئے نہیں تہے۔ سہیل۔ ہاں یار ایسے ہی چودتے ہیں۔ وہ گانڈو عارف ہی تو سب کو دیتا ہے پیسے لیکر۔ مینے بولا تمھیں کیسے پتہ سہیل۔ یار میں بہی کبھی کبھار ہوتا ہوں بیٹھک میں۔ تو تم نے بھی چودہ ہے عارف کو؟۔ سہیل۔ نہیں یار حرامی مجہے نہیں کرنے دیتے۔ اور ویسے بھی ان کے لن بہت بڑے ہوتے ہیں اور میرا چھوٹا ہے۔ بس ایک بار عارف نے میرا لن چوسا ہے۔ میں نے بولا تو تمھیں مزا آیا؟ سہیل۔ ہاں یار تھوڑا سا مزا آیا تھا۔ اب ہم کہیتوں میں کافی دور پیڑون کے سائے میں بیٹھ گئے۔ میں نے بولا یار مجھے بھی چودنا ہے۔ سہیل۔ نہیں یار کسی کو پتہ چلا تو مار پڑے گی۔ یار زبیر بہائی جو کر رہا تہا اسکو مار نہیں پڑی۔ سہیل۔ چلو کچھ کرتے ہیں۔ یار تمہاری للی کتنی بڑی ہے؟ دکھائو تو مجھے۔ میں تھوڑا سا کنفیوز ہوا لیکن میں نے شلوار نیچے کردی اسکو اپنی للی دکھانے لگ گیا۔ اس نے تھوڑا سا دیکھا اور پھر میری للی پہ ھاتھ پھیرنے لگ گیا۔ مجھے عجیب محسوس ہو رہا تھا۔ میں نے اپنی شلوار اوپر کی اور اسکو بولا چلو یار چلتے ہیں۔ وہ تھوڑا سا شرماتے ہوئے بولا ہمیں پتہ نہیں کب موقع ملے گا۔ میں بولا یار ہم بہی بڑے ہوکر عارف کو چودیں گے۔ تو وہ ہنس پڑا اور ہم واپس آگئے۔ اب مجھے ہروقت عارف کی چدائی یاد آتی تھی اور میں سوچتا تھا کب میں اسکو چودوں گا۔ اسی طرح دن گذرتے گئے۔ مین اور سہیل اکثر چدائی پہ باتیں کرتے تھے وہ مجھے کچھ نہ کچھ بتاتا رہتا تہا اور میرا لن بھی ھاتھ میں لیتا تھا جس سے مجہے کافی مزا اتا تھا۔ کبھی کبھی میں بھی سہیل کے لن کو پکڑلیتا تھا اور اسکے لن اور اپنے لن کا سائز چیک کرتا تھا۔ ہمارا لن تقریبن برابر ہی تھا۔ ایک دن ہم کچھ کزنس اپنی بیٹہک میں لڈو گیم کہیل رہے تہے، یہ گرمیوں کہ دن تہے دن کے 3 بج رہے تہے، ہمارے ہاں گرمیوں میں لوگ دن کو سوجاتے ہیں اور پہر شام کو چار بجے کہ بعد ہی اٹہتے تہے، کیوں کے گرمی بہت زیادہ ہوتی ہے وہاں اس ٹائم تو کام کچہ بہی نہیں ہوتا تھا اس لئے سب اپنے گھروں میں ہوتے تھے۔ ہم چار لڑکے تھے جو چوری چھپے گیم کھیلنے آگئے تھے جو پہلے سے ہم نے طئہ کیا ہوا تہا۔ گیم کے دوران عامر میرا کزن جس کی عمر :16 سال تہی ہم سب سے بڑا تہا بولا یار زبیر عارف ہوتا تو مزا آجاتا۔ زبیر بھائی نے اسکو آنکھ ماری جو میں نے دیکھلی۔ زبیر بولا گیم پورا کرکے علی اور سہیل تم دونون گھر جاکر سوجائو اگر ابا کو پتہ چل گیا کہ تم دونوں اس ٹائم باہر ہو تو مار پڑے گی۔
  6. 4 likes
    کہانی لکھنا شروع کر دی ہے ۔ جلد پوسٹ کرنا شروع کروں گا ابھی اپنی پہلی کہانی پوری کرنے پر زور ہے تاکہ آپ ڈیٹ کا انتظار نہیں کرنا پڑے
  7. 3 likes
  8. 3 likes
    شک کے دائرے میں آنے کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو لڑکیوں کی روٹین کی تبدیلی کہ وہ اکثر غائب رہے۔ وہ گم ہو جاتی ہو جاتی ہو کسی ایک بندے سے اس کی دوسروں کی نسبت زیادہ اچھی بنتی ہو۔ یا ایک ہی فرد سے باتیں کرتی پائی جائے۔ شک تو ہو جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کے لواحقین اس اینگل سے بھی سوچتے ہیں کہ کس بندے سے اس کا چکر ہو سکتا ہے تو اس سانچے میں عمر،جسامت،موقع ،دیگر عوامل کے جو پورا اترتا ہو اسی پہ شک جاتا ہے۔ میرے ساتھ ایسا کم ہی ہوا ہے کہ لڑکی محلے کے کسی بندے سے کروا رہی ہو اور کسی کو شک تک نہ ہو۔ کسی نے تو دیکھا ہی ہو گا جس سے شک پیدا ہو سکے۔
  9. 3 likes
    اصل میں اس کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔ اس نے کہیں باتوں میں کہہ دیا کہ میں نے دیکھا کہ فلاں میری باجی کے اوپر لیٹا ہوا تھا اور ہل رہا تھا۔میں نے دیکھا کہ اس نے باجی کی شلوار آدھی اتاری ہوئی تھی۔ وہ اور باجی اکثر ساتھ ہوتے ہیں اور مجھے کہیں باہر بھیج دیتے ہیں۔ اب اس کی کہانی تو اتنی سی تھی جب بات کھلی تو سننے والوں نے اس کہانی کو جب بڑھا چڑھا کر بیان کیا تو یہ منظر کشی ہونے لگی کہ اس نے بہن کو مکمل چدتے دیکھا ہے۔وہ پوری نہ سہی تو کسی حد تک چدتی تھی۔ جب اسے آگاہی ہوئی تب اس نے کہیں بول دیا تو بات اس قدر پھیلی کہ آتے جاتے لوگ کہتے تھے کہ اس کے سامنے اس کی بہن کو فلاں چودتا تھا۔ کچھ اسے بھی دیر سے سمجھ آیا کہ بہن اور فلاں بندہ اکیلے میں مل کر کیا گل کھلاتے تھے۔ اسی طرح ایک لڑکا تھا جسے کسی نے سموسے دیئے اور اس نے اس کی بہن کا برا منگوا لیا اور اس میں منی خارج کر کے اسے بولا کہ واپس جہاں سے لیا ہے رکھ دے۔ بڑا عرصہ یہ بات سننے کو ملی کہ اس نے سموسے کے بدلے بہن کی مموں تک فلاں کا منی پہنچا دیا۔ اب اسے سمجھ نہیں تھی،اس نے تو کوئی کہانی گھڑ کر برا منگوایا ہو گا کہ مجھے سائز دیکھنا ہے اور کسی کے لیے لینا ہے یا کوئی ایسی اور کہانی۔ وہ ناسمجھ تھا اور جب تک سمجھتا بات مشہور ہو گئی تھی۔
  10. 3 likes
    یہ مشن میری پچھلی کہانیوں کا ہی تسلسل ہے ۔ مشن اسرائیل کے بعد واپسی پر پیش آنے والے واقعات ہیں ۔ پچھلی کہانیاں مٹی کا قرض ، سرفروش 1 اور 2 اس فورم پر جناب اسٹوری میکر صاحب نے پوسٹ کرچکے ہیں۔ ۔ سرفروش 3 مشن اسرائیل کا ڈیٹا غائب ہوچکا ہے ۔ اور یہ کہانی سرفروش کا چوتھا حصہ ہے ۔ جو آپ لوگوں کی محبت میں مکمل ہوگا۔
  11. 3 likes
    بہت ہی بہترین جارہی ہے کہانی، حقیقت سے بہت قریب ہے، ایسا بہت کچھ سنا تھا وڈیروں کے بارے میں۔ سانول نے اب اس نئی جگہ پر بہت سے کمال دکھانے ہیں میرا کی حالت تباہی کی طرف جاتی نظر آرہی ہے فرزانہ کے ساتھ بھی کچھ ہوگا ضرور
  12. 3 likes
    کہاں جناب آس پاس کوئی لڑکی نہیں تھی۔ نہ کوئی بس تھی ۔ بس گاڑی میں اندر سے ہی آگ بھڑکی۔
  13. 2 likes
    واہ ڈاکٹر صاحب شاندار. صائمہ نے آپ کو مزے بھی کرائے تجربہ سے خوب نوازا. آپ نے اس سے مختلف پوزیشن سے کیا اور ٹائمنگ پر بھی کنٹرول حاصل کیا. بہت ہی خوب آرام دہ سیکس ہی سے بہت کچھ حاصل ہوتا ہے. شادی کے موقع پر سیڑھیوں پر کیا حمل ٹھہر گیا شکر ہے مانع حمل ادویات بھی ہیں ورنہ کیا ہوتا. آخری کرن کا پڑھ کر بہت ہی مزہ آیا. ہا ہا.. کرن ہاتھ سے نکل گئ آپ جو اسے تیار کررہے تھے صائمہ کے آنے پر وہ ٹیمپو ٹوٹ گیا. ورنہ اس کی بھی لے لیتے. ڈاکٹر صاحب بہت شکریہ کہ اتنی لمبی پوسٹ کی.
  14. 2 likes
    سرفروش کا اگلا حصہ پچھلے کرداروں کے ساتھ پوسٹ کیا جائے گا ۔
  15. 2 likes
    جناب آپ کو اگر کوئی مسلہ ہے تو برائے مہربانی کہانی مت پڑھیں ۔ کوئی زبردستی نہیں ویسے آپ کمنٹ نہیں کرتے پر اب پرابلم ہو گئی ہے ۔ تو کمنٹ بھی ہو گیا ۔ اور ۔۔۔ اگر وقت نہیں میرے پاس تو نہیں کر سکتا آپ ڈیٹ ۔ آپ مجھے کچھ ادا نہیں کر رہے کہ میں آپ کو لازمی آپ ڈیٹ دوں نہیں کرتا آپ ڈیٹ ۔۔ آپ میرے خلاف تھانے میں درخواست دے دئیں
  16. 2 likes
  17. 2 likes
    میرے بھائی اس کا تذکرہ اسی تھریڈ میں کریں نا۔ یہاں کسی کی تھریڈ میں کمنٹ اسی تھریڈ کے متعلق ہونے چاہیئں۔ اپڈیٹ لکھ رہا ہوں، دعا کیجیے جلد از جلد مکمل ہو۔
  18. 2 likes
    کل وقت ملنے پر سارے صفحات دوبارہ پوسٹ کر دوں گا
  19. 2 likes
    استاد جی ۔ اندر کی آگ تو زیادہ خطرناک ہوتی ہے 😋😛😝😍🤩 کچھ خیال رکھا کرو
  20. 2 likes
    Allah Pak reham kare Dr Saab baaki Sab khreat hai na
  21. 2 likes
    Dr shb Apkay Accident ka sun kar bohat Afsoos hua.. ALLAH apkp sehat day aur apki hifazat farmaye..
  22. 2 likes
    Aslaam o Alikum Dr khan bouhat afsoos hoa aap ky accident ka soun ka ALLAH pak aap ko apni aman mein rakhy
  23. 1 like
    آپ نے کہا کہ انوکھے واقعات دیکھنے کو ملے گے۔ کوئی مووی لگی ہے کیا فورم پر؟ اور انوکھے واقعات مطلب فکشن ٹائپ مووی ہوگی؟ ہے نا
  24. 1 like
    Admin pehly story load kr diya kro phr sab ki raye liya kro. Ap ab hamy kiya pta story k c hy. Or mehrbani kr k puri story upload kiya kry. Udhori story phr dobara nai parhi jati na mza ata hy parhny ka. Shukriya
  25. 1 like
    آج تقریباً ہر شخص کو ہر چیز کا پتا ہے لیکن پھر بھی وہی کرتا ہے جو الٹ ہے. اصل میں آگے پیچھے ہر طرف سے جب دعوت سیکس ہو تو انسان اونچی امیدیں باندھ لیتا ہے جب پوری نہیں ہوتی تو مایوسی مقدر بنتی ہے. آپ کی اس بات پر تو بہت کچھ لکھا پڑھا جاچکا ہوتا ہے. اس فورم پر بھی آپ کو بہت سا مواد مل جائے گا. ہر انسان کی طبیعت مختلف ہوتی ہے. ایک دوسرے کے ساتھ برداشت ہی سے زندگی چلتی ہے, تربیت کا فقدان ہے. یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ اگر بیگم کو رات میں منہ زور کردیا جائے تو اس کی خواہشات بڑھتی جاتی ہیں قابو میں نہیں آتی. میں تو سمجھتا ہوں کہ میاں بیوی کو دن کی روشنی میں شرم وحیا سے معمور رہنا چاہیے. لیکن تنہائ میں /سیکس کے دوران بےشرم ہوجانا چاہیے. میاں کو چاہیے کہ بیوی کی دلچسپی دیکھے اسے بھی اپنے ساتھ کچھ کرنے کا موقع دے
  26. 1 like
    Nice update, Jitne update di ye be bht hai, Iske jitne update de sakte hain utni hen den wse be apka accident hwa tha.
  27. 1 like
    اللہ آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور صحت عطا کرے آمین
  28. 1 like
    Dr Sahib aaj ka wada tha update ka plzzz ab to dedo
  29. 1 like
    Update 19th Oct 46 pages میرا خیال ہے اب شاید کچھ لوگ خوش ہو جائیں
  30. 1 like
    Mein comment usually krta ni hun aur yeh bhi ni patta k yeh comment bhi approve ho ga k ni.. Dosri site pe story partha tha mein..urdu fun club ko jaanta tak ni tha..wahan bhooli dasstaan mein kisi ne link daala tu idhr shift ho gae.. Dr. Sahab ki updates parhi es story pe tu acha laga..phr pardais parhi..kehna parre ga k one of the best story thi Pardais..baad mein patta challa woh paid section mein challi gi..phr essi story pe guzara ho rha tha aur phr yasir sahab wapis aa gae.. Story dr. sahab achi challe rhe thy aur phr sadaf k gang rape k baad mazza kharaab hua story ka..updates parhne ka dil ni hua..Actually story boring ho jaati hy..But hamein Pardais mein kbhi aisa feel ni hua..So doctor Sahab plz thora dhayan se..jo mazza pardais mein aya woh advertising wali adhoori saazish mein bhi ni hy aur kisi ki bhi tanqeed ko khunda peshaani se jheela krein jahan tak mein ne note kia hy k agr koi tanqeed krta hy tu es site k saray karta dharta (includes writers) uth k usko yasir se milla detay hn aur ghussa alag krte hn..my thinking can be wrong but ab ap ko bhi soochna parre ga k dosri site pe yasir bhi story likh rha hy..so competition ka mahool bana hua hy..users ko jo acha burra lge ga tu woh express ni krein ge tu kese nikhaar aae ga writer k words mein? Doctor Sahab..baat yeh ni k ap ghalt likh rhe..baat yeh hy k readers bhut ziada expect ker rhe..I hope sab ki expectations pe poora utrein ge ap.. One request to admin..There should be separate paid option to read story of your own choice.Let suppose I only want to read Pardais then there should be a package for this only. Aur mails and msgs ka jawab de dia krein..No body sent me jazz cash account number despite of many requests.
  31. 1 like
    جناب اس فورم پہ خوش آمدید پہلا ہی کمنٹ اتنا ظالم؟ جناب کیا ہے کہ ہماری بساط تو جتنی ہے اتنی لکھ رہے ہیں۔ اب اگر پلاٹ تباہ ہو گیا ہے تو اس کے لیے تہہ دل سے معذرت۔ کہانی سچی آب بیتی نہیں ہے یہ سچ ہے،آپ بھی ہماری مان لیجیے۔ مگر کوئی زبردستی نہیں ہے کہ ضرور تسلیم کیجیے۔ میں نے کہانی کردار یاسر پہ لکھی ہے نہ کہ لکھاری کی ذات پہ تو یہ کہنا بہتان ہے کہ میں نے کسی کی ذاتی زندگی کو مسخ کیا۔ سب سے آخری بات،جناب پسند نہ آنے کی صورت میں آپ بےشک پڑھنا ترک کر دیجیے،کوئی اور دیکھ لیجیے شاید وہ بھا جائے۔ ویسے بھی شیخو جی موجود ہیں ان کا ورژن پڑھ لیجیے وہ جہاں بھی شائع کرتے ہیں۔
  32. 1 like
  33. 1 like
    یہ کہانی سن ۲۰۱۱ سے چل رہی ہے ماہانہ اپڈیٹ ہوتی ہے۔
  34. 1 like
    Hello Friends Kese hn aap sab ? I am Areeba mature girl from Pakistan .Main is forum pe new hn.Urdu Literature pasand he muje bohot. Urdu sex Stories b shouq se parhti hn . Umeed he aap sab k sath acha waqt guzre ga.
  35. 1 like
    محمد ارشد ۔ عمر لگ بھگ اکتیس سال (ویسے اگر ہفتہ وار اور گرمیوں ، سردیوں کی چھٹیاں نکال دیں تو کافی کم کی جا سکتی ھے)۔ بنیادی طور پر ملتان سے تعلق ھے لیکن بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم ہوں۔ کاروباری شخصیات میں شمار ہونے کی کوشش جاری ھے(لیکن ناکام ہوں کہ کاروبار ایمانداری سے کرنا چاہتا ہوں) شادی شدہ ہوں اور ایک عدد بیٹے کا اکلوتا باپ ہوں۔ شوق کیا ہیں اس کے بارے میں خود بھی معلوم نہیں گر کبھی تھے تو پردیس کی تنہائی نے لگتا نہیں ھے دل میرا اس اجڑے دیار میں کی مانند ختم کر دئیے ییں ہاں بس ایک شوق ھے اب بس کمانا کمانا اور کمانا۔
  36. 1 like
    Name:Dhirrar(some people prefer zarrar ) Age:21 Occupation:Student of an accounting certificate + ek ecommerce website run ker raha hn Place:Education k wajah se filhal LAHORE Hobbies:Reading(mera khayal ha urdu adab k beshtar hissa chat chuka hn )+traveling(Punjab k her shehar chahe qayam 12 hr k ho beshtar KPK aur sindh ko halka sa touch kiya ha ek do middle eastren countries mein bhi qiyam raha ha )+marketing ideas sochna aur unhien apply krna
  37. 1 like
    میسنہ گھنا منافق ہونا بہتر ہے اور گرلز کو قبول ہے۔ کم از کم اس کی گندی سوچ اس کے دل میں تو ہے۔ ایسے جیسے کوڑے پہ ڈھکن دیا ہو۔ جو اوپن یہ کام شو کرتے ہیں اور بولتے ہیں کہ میں منافق نہیں گندا ہوں تو دکھتا بھی ہوں تو وہ گندے پن کو اپنے تک نہیں رکھتا گرلز تک پہنچا دیتا ہے۔ مگر جو منافق ہی سہی مگر کم از کم گرل کو اپنی گندی سوچ سے نقصان نہیں پہنچاتا اور دل میں سوچ رہا ہوتا ہے کہ پہنچاؤں تو وہ بہتر ہے۔ جب پہنچائے گا تب دیکھا جائے گا۔ مگر یہ پہنچا نہ بھی سکے مگر اظہار کر کے ہی ذہنی تکلیف دیتا ہے۔ تو منافق کم برا ہے لوفر سے۔ ایک بات ڈاکٹر صاحب ہاتھ جوڑتی ہوں آسان بات بولا کریں۔ گرل کو سب پتا ہے کہ سیکس سے کیا ہو گا؟؟ گناہ، بدنامی ، درد اور سب۔ وہ جب خود تیار ہے سب کچھ کرنے کو تو آگے اس کی مرضی۔ جو تیار نہیں ہو گی رزلٹ فیس کرنے کے لیے وہ نہیں کرے گی۔ یہ ہر لڑکی کی اپنی چوایس ہے۔
  38. 1 like
    Same reason jo bahir k boys ki hai. I mean k agar husband bohat bad behavior rakhay. Insult karta ho. Marta ho ya basic needs na pori karta ho. But sex k liya aa jai ya girl ko jis tarah pain hota ho ya bohat bura lagta ho wesa forcefully karay.Tu girl Ko kahan maza aana hai.Then man is same like sStreet boy.Simple hai girl bi sex karne ka sochti hai but on her conditions. Boy ka mostly level yeh hota hai k bus koi bhi ho even servants or beggars.old woman or baby. So disgusting...
  39. 1 like
    گندی حرکت مطلب کہ اس نے اس کے ساتھ ریپ کی کوشش کی اور اس کے ساتھ زبردستی سیکس کرنے کی کوشش کی مگر باقی سب تو اس نے کر لیا تقریباً بس وہ کام نہیں ہو سکا۔ اس نے یہاں تک کے لڑکی کے کپڑے بھی ہٹا دئے۔ بس اندر نہیں ہوا اور کوئی آ گیا تو وہ چلا گیا۔اچھی کزن کا مطلب جو گندے کام میں نہ لگائے۔ کچھ ہوتی ہیں جو الٹا اپنے بھائی یا کسی کے ساتھ سیٹ کر رہی ہوتی ہیں کہ تمہیں میرا بھائی بہت چاہتا تھا۔ ایسی نہیں ٹھیک ہوتی ہیں۔ان سے بچنا چاہیے۔ کچھ کے اپنے افیئر ہوتے ہیں وہ چھوٹی کزن یا دوست کو ساتھ لے جاتی ہیں جیسے شاہ جی کی سٹوری میں لڑکی اپنی دوست کو بھی بوائے فرینڈ کے دوست سے سیٹ کرواتی ہے۔
  40. 1 like
    جیسے لڑکی بولے کہ میں آ رہی تھی تو مجھے کسی نے چھیڑا تو ماں باپ بولیں گے تم کیوں اکیلی تھی؟؟ گئی ہی کیوں تھی؟؟ تم نے بھی کوئی اشارہ دیا ہو گا ورنہ شریف لڑکی پہ تو جرات نہیں ہوتی یا تمہارا آنا جانا ہی بند۔ کالج سکول تک بند ہو جاتا ہے صرف اس بات پہ کہ کوئی راستے میں چھیڑتا ہے۔ باقی کزن وغیرہ اگر اچھی ہوں تو ٹھیک نہیں تو سہی نہیں ہوتا۔
  41. 1 like
    اس معاملے کا دردناک پہلو ہے کہ جب بھی ایسا کوئی رپپ ٹائپ واقعہ کسی کم سن بچی کے ساتھ پیش آتا ہے تو اس کے والدین پر کیا گذرتی ہے ان کی کرب، دکھ، مجبوریاں، خاموشی، کیس نہ کرنا، لڑکی کی زندگی برباد ہونے کا خوف یہ سبھی بے حد گھمبیر مسائل ہیں ہمارے معاشرے کے پھر اگر یہ واقعات میڈیا تک پہنچ جائیں تو ایک الگ تماشا لگ جاتا ہے ہمسائے، رشتہ دار الگ مسائل پیدا کرتے ہیں ہم ٹی وی پر کچھ اچھے ڈرامے بھی پیش کئے گئے اس موضوع پر جیسے روگ، اڈاری کم سنی میں ریپ بہت سے نفسیاتی مسائل بھی پیدا کرتا ہے
  42. 1 like
    ان سیکشن کے لیے آپ کو پیڈ ممبر شپ لینا ہو گی اور اس کے بعد آپ کے کمنٹس بھی بنا اپروول کے پوسٹ ہو جایا کریں گے۔
  43. 1 like
    ہمارے ہاں کی خواتین پہلے کی نسبت کافی بے شرم اور بے حیاء ہو گئیں ہیں یا پھر روشن خیالی کے نظریے کے مطابق باعتماد اور بہادر ہوگئیں ہیں آج سے بیس بچیس سال پہلے تک جوان خواتین اپنے لیے پینٹی، بریزر، بال صفا کریمیں اور لوشنز، اور سینٹری نیپکنز وغیرہ خریدنے میں شرم اور جھجھک محسوس کرتیں تھیں اور اکثر یہ اشیاء اپنے گھر کی کسی بزرگ خاتون یا اپنے شوہر سے منگواتیں تھیں یا پھر ان دکانوں سے خریدتیں تھیں جہاں کاؤنٹر پرخواتین ہی ہوتیں تھیں. لیکن آج کل اکثر خواتین یہ سب اشیاء خود ہی خریدتی پھرتیں ہیں. لوگ صحیح کہتے ہیں تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ تبدیلی آگئی ہے.
  44. 1 like
    آپ یقینا اس بات سے اتفاق کریں گے کہ جب اے ٹی ایم مشین میں سے چرخیوں کے گھومنے جیسی آواز آتی ہے تو ہمارا دل خوشی سے باغ باغ ہو جاتا ہے کیونکہ یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ رقم باہر آنے کو ہے۔ لیکن کیا آپ اس بات پر یقین کریں گے کہ یہ آواز مکمل طور پر مصنوعی ہوتی ہے جو مشین میں نصب ایک سپیکر سے نکلتی ہے اور یہ کہ مشین کے اندر کوئی ایسی چیز نہیں گھوم رہی ہوتی کہ جس سے یہ آواز پیدا ہو۔ اس انکشاف کے بعد بھی اکثر لوگوں کو اپنے سالوں پرانے خیال کو بدلنا مشکل محسوس ہوا ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے یہی سمجھتے رہے ہیں کہ مشین کی چر خیاں اور پھرکیاں گھوم گھوم کران کی رقم باہر لا رہی ہیں۔ ان لوگوں کو مائل کرنے کے لیے کچھ مزید دلچسپ مثالیں بھی دی گئی ہیں ۔مثلاً آپکے موبائل فون کے کیمرے کو استعمال کرنے سے کلک کی آواز آتی ہے ۔اب بھلا اس میں کونسے مکینکل آلات ہوتے ہیں۔ لوگوں کو قدرتی گیس کی موجودگی سے خبردار کرنے کے لیے اس میں ناگوار بو شامل کی جاتی ہے ۔ بہت کم آواز والے انجنوں سے راہ گیروں کو خبردار کرنے کے لیے انجن کی مصنوعی آواز استعمال کی جاتی ہے ۔ اے ٹی ایم کی مصنوعی آواز کا انکشاف اتنا حیرت انگیز ہے کہ بعض ملازمین جو ان مشینوں پر کام کرتے ہیں انہیں بھی یقین نہیں آ رہا
  45. 1 like
    آپ کو کسی سے نقصان پہنچتا ہے تو اس کے خلاف کیس کر کے اس سے رقم کا دعویٰ کر سکتے ہو کہ تمہاری وجہ سے مجھے نقصان پہنچا ہے مجھے اتنی رقم دو۔تاریخ میں بڑے بڑے مزاحیہ ہرجانے کے دعوے بھی ہوئے ہیں۔امریکہ میں لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والے ایک عورت کو میکڈونلڈ نے نہایت گرم کافی دے دی تھی۔اس عورت نے میکڈونلڈ پر ہرجانے کا دعویٰ کر دیا کہ ان کی کافی وجہ سے مجھے تکلیف ہوئی ہے میری زبان جلی ہے مجھے میکڈونلڈ والے انتیس لاکھ ڈالرز دیں۔اور اندازہ کریں وہ عورت مقدمہ جیت گئی ۔میکڈونلڈ نے عدالت کے حکم پر اس عورت جو انتیس لاکھ ڈالرز یعنی قریبا پاکستانی اٹھائیس کروڑ روپے دیے۔
  46. 1 like
    آسٹریا میں ایک ایسی جھیل ہے جو کہ سردیوں میں ایک خوبصورت پارک ہوتا ہے جہاں لوگ چہل پہل کرتے ہیں اور گرمیوں میں یہ ایک دس میٹر گہری جھیل بن جاتا ہے۔ مکمل تفصیل یہاں پڑھ سکتے ہیں۔
  47. 1 like
    دنیا میں صرف 5 ممالک ایسے ہیں جو مقروض نہیں ہیں۔ مکاؤ، برونائی دارالسلام، برٹش ویرجن آئس لینڈ، لیکنسٹائن، پلاؤ پاکستان اس لسٹ میں باونویں نمبر پہ ہے تمام ترقی یافتہ ممالک پاکستان سے زیادہ مقروض ہیں مکمل لسٹ یہاں دیکھ سکتے ہیں
  48. 1 like
    ناگاسا (جاپان) کی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ماں بننا خواتین کے دماغ میں کچھ تبدیلیاں لاتا ہے اور نومولود کی مہک دماغ کے کچھ حصوں کو زیادہ باشعور، غور و فکر اور دوسروں کا خیال رکھنا والا بنا دیتی ہے۔
  49. 1 like
    ایک بڑی سیدھی اور کم عمر لڑکی کی شادی ہونے لگی تو اس کی ماں نے اسے ہدایت کی کہ بیٹا ہوسکتا ہے کچھ عرصے بعد تمہارا شوہر تمہیں دوسری سائیڈ سے بھی کرنے کی کوشش کرے۔تب تم اسے منع کر دینا کیونکہ ایسا کرنا خلاف فطرت ہے اور نہیں ہونا چاہیے۔ تم اسے منع کر دینا کہ یہ طریقہ ٹھیک نہیں۔ شادی کے دو چار مہینوں بعد شوہر نے ایک رات بیوی سے کہا کہ آج ہم دوسری طرح کریں گے اور میں دوسری جگہ لن ڈالوں گا۔ لڑکی کو ماں کی نصیحت یاد آ گئی۔ وہ صاف منع کرتے ہوئے بولی:ہرگز نہیں۔ میں اس غیر فطری انداز کو اپنانے کی اجازت ہرگز نہیں دوں گی اور یہ کام نہیں ہو سکتا۔ شوہر بولا:ٹھیک ہے جیسی تمہاری مرضی کیونکہ میں تو سوچ رہا تھا کہ اب ہمارے بچے ہو جانے چاہیئں۔ نتیجہ: اگر ساس کمینی ہو سکتی ہے تو داماد بھی چالو ہو سکتا ہے۔
  50. 1 like
    جی کوشش تو یہی ہے کہ اسے مستقل سلسلہ بنایا جائے مگر ہر سلسلے کو ایک دن مکمل ضرور ہونا چاہیے۔ میں نے کئی مشتقل سلسلے پڑھے جن میں آتش فشاں،سرکش ،اناڑی وغیرہ شامل ہیں۔ وہ نہایت اچھے لکھے گئے مگر ان میں بری بات یہ تھی کہ وہ یہ سوچ کر لکھے جاتے تھے کہ وہ کبھی ختم ہی نہیں ہوں گے۔دوم ان کی رفتار بہت سلو ہوا کرتی تھی،یہاں ایسا نہیں ہے ۔ان کی تمام خامیوں کو یہاں ختم کر کے لکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ویسے بھی اس کہانی میں میری کوشش یہ ہے کہ مکمل حقیقت نگاری کی جائے۔ جمیل ایک نہ ایک دن ضرور کسی ایسے مقام پر پہنچے گا کہ اسے پردیس سے رخصت لینا پڑے گی۔
×
×
  • Create New...