Jump to content
URDU FUN CLUB

EricT

VIP SILVER PRO
  • Content Count

    65
  • Donations

    $0.00 
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    7

EricT last won the day on October 15 2017

EricT had the most liked content!

Community Reputation

210

3 Followers

About EricT

  • Rank
    Regular Donor / Sponsor

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. Sorry to hear about the car fire but glad you are ok. Wish you a speedy recovery in health and financial loss
  2. مجھے بھی تعجب ہوا کہ جس نے بھی یہ پلان بنایا ہے یاسر کو پھسانے کے لئے اس نے کیسا بھونڈا پلان بنایا کہ جس میں یاسر پھنس ہی نہ پاۓ - لیکن ایک بات یہ ہوسکتی ہے کہ وہ صرف صدف کے شکاری تھے اور انہوں نے فقط ایک شاہد/گواہ سے بچنے لئے یاسر کو باندھ دیا تاکہ وہ اپنا گھناؤنا عمل پورا کرلیں
  3. واؤ میری تو ساری پیش گوئی گئی پانی میں ... اپ ڈیٹ واقعی زبردست تھی
  4. بلاشبہ نازی یاسر کے کرتوتوں کی بھینٹ چڑھ گئی - عظمیٰ نے اسے ضرور کوئی دھوکہ یا سبز باغ دکھائے ہوںگے ... دیکھنا یہ ہے کہ یاسر کیا کرتا ہے - اب تک تو وہ تھرکپن اور پختگی کے بیچ کا سفر تے کر رہا ہے
  5. بڑی دیر کے بعد اپنی غلطی دیکھی کہ ماہی کے بجائے ضوفی لکھ دیا... بات کا مطلب کچھ سے کچھ ہوگیا
  6. !بہت خوب کہانی کا یہ دوسرا جنم بہت زبردست جا رہا ہے میری راۓ جو ضوفی کی ذہنی حالت اور کچھ دبی ہوئی نفسیات کے بارے وہ سہی لگ رہی ہے - کمنٹس میں پہلے یا اب پلاٹ پر اسی لئے خاموش تھا کہ میں سسپنس نہ خراب کروں - سو اپ ڈیٹ دیکھ کر ایک الگ مزہ آیا کیپ اٹ اپ اینڈ رننگ مائی میٹ Keep it up and running, mate!
  7. Nice update... youre getting the red text because in MS-WORD or the word processor youre using you have enabled 'track changes' .... struck out red text is deletion and red text is addition from the previous save. If you 'accept all changes' and 'stop tracking' then font will be normal.
  8. واہ فیصل کمال کر دیا اس کہانی کو سمبھال کر!! کرداروں کے رویوں سے بلکل نہیں محسوس ہوا کہ مصنف تبدیل ہوگیا ہے لیکن تمہارا انداز منفرد ہے تو پلاٹ پر اسکی چھاپ ہے - لیکن یہ بھی ایک مثبت تبدیلی ہے ایک بات ضرور محسوس ہوئی کہ تمہارے آج کل کے سب سلسلوں کے اپ ڈیٹ میں میں ریپ ہی ریپ نظر آرہا ہے لیکن اس کو فریم اوف مائنڈ کے بجاۓ پلاٹ کی ضرورت ہی لگی کہیں حیران کن اور کہیں سبق آموز موڑ کے طور پر
  9. اس تھریڈ کی شروعات میں سب ایکٹو ممبران نے حصّہ لیا اور کافی باتیں تفصیل سے زیربحث آئیں - میں سمجھتا ہوں کہ مرکزی خیالات کافی ڈسکس ہوگئے اور اب جب تک کوئی نیا پہلو، سوال، خبر یعنی کفتگو کے لئے نیا مواد نہ ہوا تو خاموشی ہی رہے گی - ایک ہی طرح کی بات بار بار گھما کر سامنے آئے تو گفتگو میں مزہ نہیں رہتا
  10. بہت خوب سٹوری میکر ہزاروں کہانیاں پڑھنے کے بعد یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ کی پہلی کاوش کئیوں کو سکھا سکتی ہے- شروعات میں پلاٹ کی آہستہ لیکن بتدریج پیش رفت ایک ماہرانہ اقدام تھا- آخر کی اقساط کچھ جلدبازی کے ساتھ لکھی گئیں لگتیں ہیں- اب اسکی وجہ قارئین کی بےصبری تھی یا مصنف کی یہ نہیں کہہ سکتا کچھ پڑھنے والوں نے اختتام/انجام کے بارے میں خیال آرائی کی ہے کہ یوں نہ ہوتا وغیرہ لیکن میرا ماننا ہے کہ ایسی بہت کم کہانیاں ہوتی ہیں جن کا اختتام سب کو قبول ہو ورنہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ ہر قاری نے اپنے تصور میں کہانی اور کرداروں کے لئے اپنی فینٹسی پر منحصر توقعات، امیدیں وغیرہ بنالی ہوتی ہیں اور جب انجام ان سے مختلف یا برعکس نکلے تو یا انہیں اچھا نہیں لگتا یا سچا/صحیح نہیں لگتا مبارک کہ اب آپ اپنی فورم آی ڈی کے اسم بمسمع ہوگئے- امید آئندہ بھی لکھتے رہیں گے
  11. نرسوں کے بارے میں اکثر ایک فنٹیسی پالے ہوتے ہیں اس بات میں کوئی شک نہیں لیکن غریب ملکوں میں اس طبقے سے سیکس کشید کرنا ترقی یافتہ ملکوں کی نسبت بہت آسان ہوتا ہے. پاکستان میں نرسوں سے سیکس ایک آسان ہدف ہے. جیسا کہ آپ نے کہا جو نرسیں اخلاقی مضبوطی اور پیشاور ایمانداری کا اظہارکرتیں ہیں وہ سب سے زیادہ مشاکل میں گھری ہوتیں ہیں. نرسیں کیا پاکستان میں ہر ایماندار کے ساتھ یہی مسئلے ہیں. حرام خوروں نے سب کو خود جیسا بنانا ہوتا ہے اور بد قسمتی سے ہمارے پاس حرام خوروں کی کمی نہیں بلکہ ایک واضح اکثریت ہے
  12. فیصل آپ نے میرےکمنٹ کی بہترین تشریح کی جو کہ مجھے کرنا چاہیے تھا بجائے حد سے زیادہ اختصارکرنے کے آپ نے بلکل صحیح کہا کہ دیسی یا مشرقی لڑکی یا عورت کوسیکس کے لئے ایسی توجیہ چاہیے جو اس کے معاشرتی، برادری، خاندانی، اور گھریلو اقدار کی نفی نہ کرے... اور یہ فریب سے ہی ممکن ہے چاہے وہ خود فریبی ہو یا دوسروں کا دھوکہ اچھا توجیہ مغرب زدہ لڑکی/عورت کی ضرورت بھی ہے...کئی لوگ آزاد خیال ملکوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ ١٠ میں سے ١٠ لڑکیاں/عورتیں کسی کے لئے بھی ٹانگیں کھول دیں گی بلکہ ان میں سے کئی تو سجھتے ہیں کہ ہر وقت ٹانگیں کھلی ہی ہیں لیکن ایسا بلکل نہیں ہے... بس وہ سیکس کو غیرت اورعزت نفس کا مسئلہ نہیں بناتیں کیونکہ ان کو کچھ حقیقی جواز قبول ہونگے مثلاً جسمانی ضرورت، صرف ایک مزے کی بات وغیرہ الفاظ کا چناؤ موقع کی مناسبت اور حسب تدبیر ہی ہونا چاہیے. میں اسے شوگر کوٹنگ تو نہیں بلکہ معاملہ فہمی کی مہارت سمجھتا ہوں ہاں اسکی زیادتی یقیناً فریبی اور دھوکے بازی کے قریب ہوجاتی ہیں.غیر ازدواجی تعلقات کےضمن میں میرا مقصد ہوتا ہےکہ سامنے والی کسی غلط یا خوش فہمی میں نہ رہے اور اسے بعد میں یہ نہ لگے کہ میں نے اسکا جذباتی استحصال کیا یا کسی کمزور لمحے کافائدہ اٹھایا. اسکا مطلب یہ نہیں کہ میں ہر بات ایسی صاف گوئی سے بولوں کہ معاملہ چوپٹ ہوجائے. بس سیٹنگ اینڈ مینیجنگ اکسپکٹیشنس والی بات ہے. اپنے شوہر سے غیر مطمئن عورت کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اس طرح گھٹ گھٹ کے جینا، مردہ ہونے کے مترادف ہے اور اگر گھر کی گاۓ دودھ نہیں دے رہی تو باہر سے حصول ضروری ہے نہ کے بھوکا مرنا..یہی حال ان کا ہوگا جنکے شوہر یا بواۓ فرینڈ ان سے دور ہیں ... ایک غیر شادی شدہ یا ایک طلاق یافتہ کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ جب تک کوئی سچا پیار نہ ملے تب تک جسمانی تقاضوں کو ایک حد سے زیادہ نظر انداز نہیں کرنا چاہیے... وغیرہ معذرت میں وضاحتوں میں لگ گیا لیکن اپنی پچھلی پوسٹ کی کمی کو پورا کرنا ضروری لگا .
  13. فضول کی ہانکنے میں آپ کا وقت ضایع نہیں کرنا چاہتا لیکن اپنا ایک چھوٹا تعارف دینا پڑے گا... میں عمر کی چوتھی دہائی میں ہوں اور اس عمر کا دس فیصد بھی پاکستان میں نہیں رہا- اس لئے میرا ٹاکرا مختلف اقوام کے تارکین وطن یعنی اکسپٹریٹ لوگوں اور گروپس سے ہوتا ہے- اس میں بھی میں عموماً پاکستانیوں اور ہندوستانیوں سے تھوڑا فاصلہ رکھتا ہوں کیونکہ میرا مزاج ایک بڑی اکثریت سے ملتا نہیں - معذرت میں کوئی مغرور نک چڑھا نہیں لیکن دنیاداری کے خودغرض، دہرے، اور دوغلے میعار کو نا اپنانے سے دوسرے مغرور، دماغ خراب، ساتویں آسمان کا مزاج وغیرہ سمجھ ہی لیتے ہیں- کچھ کام کی نوعیت ایسی ہے کہ زیادہ واسطہ عربی اور گوری قوموں سے پڑتا ہے- سیکس کے بارے میں میری اپروچ بلکل ڈائریکٹ ہے اسی وجہ سے بہت کم ایسی دیسی لڑکیاں یا عورتیں ہیں جن کو میرا خود فریبی اور دھوکے بازی سے مبرا انداز اچھا یا قابل ہضم لگے- یعنی آپ جن حیلوں بہانوں کی بات کرتے ہیں میں اسی سے پوری طرح باز رہتا ہوں- میرے لئے یہ انتہائی ضروری ہے تاکہ بندی کسی غلط یا خوش فہمی میں میری گھریلو زندگی پر اثرانداز نہ ہو- میرے افیئر اسی امید اور سمجھ بوجھ پر مبنی ہوتے ہیں کہ ہم ایک سیکس افئیر کر رہے ہیں کوئی جینے مرنے کی قسمیں نہیں کھا رہے- نوجوانی سے ہی مجھے دو ٹوک بات کی عادت ہے جو وقت کے ساتھ اور پختہ ہوگئی ہے- اسی لئے میں نے دیسی گھاٹ کی بات کی تھی... اس میں کوئی شک نہیں کہ فیصل نے ہم چاروں میں سے سب سے زیادہ اس برانڈ کا پانی پیا ہے لیکن میرا اندازہ ہے کہ ہر تجربہ ایک الگ کہانی ہونے کی وجہ سے ذرا کنی کترا رہے ہوں- مجموعی طور پر آپ نے سب حیلے بہانے اوپر بیان کر دیے ہیں- ان پر مزید تشریح مشکل ہے
  14. یہیں ہوں لیکن میرا "گھاٹ" دیسی نہیں بدیسی ہے اسلئے شجر ممنوعہ قسم بہت کم برتی یا برتائی ہے اور یہاں دیسی گھاٹ کے پانیوں کا ذکر چل رہا ہے
  15. پاکستان میں سیکس تک رسائی اور سیکس کی موجودگی یا منظوری ایک بہت وسیع پہلو ہے یعنی اٹس اے ویری وائڈ رینج/بینڈ/سبجیکٹ پاکستان ان خطوں میں سے ایک ہے جہاں چھوٹے فاصلے پر ہی کافی فرق پڑ جاتا ہے- چاہے وہ فرق صوبہ الگ ہونے کی وجہ سے ہو یا شہر، گاؤں، محلہ، وغیرہ ان سب کی قریبی اور یکساں اکائیاں مجھے محلہ اور برادری لگتی ہیں- بڑے شہروں مثلاً کراچی، لاہور، وغیرہ میں آپکو مختلف علاقوں اور انکے محلّوں میں مزاج کا واضح فرق نظر آئے گا مثلاً کلفٹن ڈیفنس بمقابلہ لیاقت آباد رنچھوڑ لائن وغیرہ واضح اقتصادی فرق کے علاوہ قومیتوں، ذاتوں، برادریوں کا فرق بھی ہے مثلاً ناظم آباد، گلشن اقبال، ہیرا منڈی، نیپئر روڈ وغیرہ کچھ علاقوں، شہروں، صوبوں کی عمومی غیرت مرنے مارنے تک پہنچی ہوتی ہے اور کہیں بہت کچھ چلتا ہے-لیکن ایک واضح پہلو جسکا ذکر فیصل نے کیا وہ شہری اور دیہاتی پس منظر کا ہے- دیہاتی پس منظر میں سیکس تک رسائی نسبتاً آسان ہوتی ہے- یاد رہے کہ شہروں کے اندر پسماندہ علاقے یا شہری حدود کے قریب لیکن باھر والے علاقوں میں بھی دیہاتی قسم کی سوچ غالب ہوتی ہے- میں کسی کے جذبات مجروح نہیں کرنا چاہتا لیکن کچھ سنی سنائی لیکن مشہور باتیں نری جھوٹی نہیں بلکہ کچھ سچائی پر بھی مبنی ہوتی ہیں- کچھ ذاتیں یا قبیلے یا فرقے ایسے ہوتے ہیں جہاں سیکس تک رسائی بہت آسان ہوتی ہے لیکن وہاں 'جانتے سب ہیں مانتا کوئی نہیں' والی روایت ہوتی ہے- آپ میں سے سب نہیں لیکن کئیوں کا سامنا ایسی برادریوں یا فرقوں سے ہوا ہوگا جہاں انکی عورتوں کا حصول کچھ خاص مشکل نہیں یا تو وہ ویسے ہی جوانی کی گرمی میں چدوا لیں گی یا تھوڑا بہت لالچ گفت وغیرہ سے یا خاموشی سے آپکے نیچے لیٹ جائینگی اور کوئی تردد یا مزاحمت نہیں کرینگی- یہاں مزاحمت کی غیر موجودگی صرف اقتصادی کمزوری یا فرق پر نہیں بلکہ اور بھی کئی وجوہ سے ہو سکتی ہیں- اسی طرح ذاتیں یا قبیلے یا فرقے ایسے ہیں جہاں کبوتر والی بند آنکھیں تو نہیں لیکن رسم و رواج کے پردے میں سیکس یا عورت کا حصول آسان ہوتا ہے مثلاً ایسے قبیلے جہاں لڑکی کے ولی یعنی بھائی باپ وغیرہ کو رسم کے مطابق رشتہ مانگتے وقت ایک رقم ادا کی جاتی ہے جسکے بعد وہ مڑ کے بھی نہیں دیکھتے کہ آپ نے لڑکی سے کیا کیا یا کروایا- عارضی شادیاں کچھ فرقوں میں ممکن ہوتیں ہیں لیکن انکا ڈھنڈورا نہیں پیٹا جاتا اور یہاں میں صرف شیعوں کی بات نہیں کر رہا- متعہ ہو یا مسیار دونو نکاح عارضی ہوتے ہیں- ان سب سے کم تناسب قریبی رشتوں میں سیکس کا ہے- ایسی ذاتیں قبیلے برادریاں وغیرہ بھی ہیں جہاں سالی، بھابھی، پڑوسن، بہن، ماں، خالہ، پھوپو، وغیرہ حلال ہوتی ہیں لیکن اس بات کو اچھالا نہیں جاتا بلکہ خاموشی سے برتا جاتا ہے- میں کسی ایک گروپ میں ان سب رشتوں سے سیکس نہیں کہ رہا بلکہ عرض یہ ہے کہ کہیں کچھ ہے تو کہیں کچھ- یہ سب کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم پاکستانی نوجوانوں کو عمر جیسے وسیع زمروں میں نہیں باندھ سکتے- اور میری رائے یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اتنا تجرباتی یا تعلیمی معلومات نہیں رکھتا کہ ان سب متغیر امکانات کو انکی مختلف اشکال میں ترتیب دے سکے-
×
×
  • Create New...