Jump to content
URDU FUN CLUB

DR KHAN

Co Administrators
  • Content Count

    2,785
  • Donations

    $0.00 
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1,003

DR KHAN last won the day on November 14

DR KHAN had the most liked content!

Community Reputation

13,553

About DR KHAN

  • Rank
    Best Writer

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

18,153 profile views
  1. ارے نہیں جناب۔ ہوس کی اپڈیٹ پہ کام کر رہا ہوں اس کے بعد میں اس کو بھی اپڈیٹ کرتا ہوں۔ بس ایک دو دن نکال لیں کسی طرح
  2. ٹیچر کے گھر کوئی نہیں تھا اور کوئی آنے والا بھی نہیں تھا تو کوئی خاص ڈر نہیں تھا۔ وہ اب ایک ڈاکٹر ہے اور شادی شدہ ہے۔ اس کے نام کا بورڈ راستے میں پڑتا ہے۔ ویسے بھی اس سے تعلق خوشگوار انداز میں ختم نہیں ہوا تھا۔ اس نے اس واقعے کے بعد کبھی رابطہ نہیں کیا۔ میں نے کوشش کی مگر نہیں ہوا اور اس نے جان بوجھ کر اس کو ایک بری یاد سمجھ کر نظرانداز کیا ہو گا۔ اسی لیے ان نے مکمل قطع تعلق کر لیا۔ کچھ ان دنوں میں کسی ایسی لڑکی کی لینے کا جنون بھی ہوتا تھا جو بالکل پاک صاف ہو۔بڑا عرصہ خوشی بھی رہی کہ میں نے کسی کی سیل توڑی ہے اور دکھ بھی رہا کہ ناحق اس کی سیل توڑی۔ اس چکر میں اس کے تعلق بھی گیا۔ نہ کرتا کچھ عرصہ، کچھ وقت صائمہ پہ ہی گزارا کر لیتا۔ مگر اس دور میں یار دوستوں سے یہی سنا تھا کہ اگر نہیں لو گے تو بچی نکل جائے گی۔ اس لیے جلد از جلد لے لو۔لڑکی قابو میں رہے گی۔ یہ بات بکواس تھی جس پہ اکثر لڑکے یقین کرتے تھے۔
  3. اس کو ناپسند کرنے کی وجہ اس کا دیہاتی ہونا تھا اور بالکل بھی بات نہ کرنا۔ جبکہ میں جس اکیڈمی یا سکول میں جاتا تھا، وہاں سبھی ماڈرن پڑھی لکھی لڑکیاں ہوتی تھیں تو پسند کا معیار الگ تھا۔ شکل بری نہیں تھی مگر وہ بالکل ہی سادہ تھی اور لباس بھی بالکل ہی سادہ ہوتا تھا۔ میں ان پہ بھی سمجھوتہ کر لیتا اگر وہ باتیں کرتی۔ تھوڑی ناز و ادا کا مظاہرہ کرتی یا تھوڑا نخرہ تھوڑا رسپانس دیتی۔ مگر وہ بس لیٹی رہتی اور جب میں ہٹ جاتا تو اٹھ کر کپڑے پہنتی اور چلی جاتی۔ میں نے پہلا کنوارہ پن اسی دور میں توڑا تھا جب صائمہ کی لیا کرتا تھا۔ صائمہ کی لینے سے مجھ میں لڑکی پہ پیش قدمی کرنے کا حوصلہ آنے لگا۔ میں نے کوششیں کیں اور کامیابی مل گئی۔ جن میں سے ایک تو صائمہ کے بھائی کی سالی تھی اس کی ملی۔وہ بالکل ہی فارغ اور نہایت بدتمیز لڑکی تھی۔ جس کی لینے کے بعد الٹا میں بدمزا ہوا۔ دوسری ایک اکیڈمی کی لڑکی کی ملی۔ اس کا نام ہم ثنا رکھ لیتے ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ میں اکیڈمی میں پڑھتا تھا اور فارغ ہو گیا تھا۔ کورس مکمل تھا بس سوچا کہ ٹیچرز کو گھر پہ ہی صرف ٹیسٹ دے دیا کروں گا۔ اس کے لیے میں نے کیمسٹری کے سر سے بات کی۔ انھوں نے مجھے ایک وقت بتا دیا کہ اس وقت اکیڈمی کی بجائے ان کے گھر آ جایا کروں۔ میں اس وقت جانے لگا، وہ مجھے ٹیسٹ لکھوا دیتے اور چلے جاتے۔ میں ٹیسٹ لکھتا اور رکھ جاتا اور اگلے دن وہ چیک ہو کر مل جاتا۔ جس وقت میں پڑھنے جاتا تھا اسی وقت ایک نقاب پوش لڑکی بھی آتی تھی جس کا بعد میں معلوم ہوا کہ نام ثنا تھا۔وہ ان کی پڑوسن تھی اور مفت میں فزکس اور کیمسٹری پڑھتی تھی۔ تین چار دن تو ثنا سے بالکل بات تو دور نظریں بھی نہ ملائیں۔ ایک دن میں گیا تو سر نہیں تھے اور ثنا موجود تھی۔ سر کی بیوی نے کہا کہ بیٹا یہ نمریکل آتا ہے؟ میں نے کہا ؛ ہاں ۔ تو انھوں نے کہا کہ ثنا کو سمجھا دو۔ میں نے ثنا کو سمجھا دیا۔ اس کے بعد اکثر وہ مجھ سے کوئی نہ کوئی سوال پوچھنے لگی۔ میں ویسے ہی پڑھائی میں بہت اچھا تھا کچھ اس کے سلیبس کی تیاری بھی کر کے جاتا تھا۔ یوں اس کو ایک قسم کا میں نے پڑھانا شروع کر دیا۔ یہیں سے باتیں ہوتے ہوتے ہی میں نے اس کو اپنا پی ٹی سی ایل نمبر دے دیا۔ ایک دن لائیٹ چلی گئی تو میں نے ہاتھ پکڑ لیا تو وہ مائنڈ کر گئی۔ میں نے بھی غصہ کیا اور کہا کہ اگر تم سے اتنا نہیں ہوتا تو مجھ سے بات ہی مت کیا کرو۔ اس نے مجھے رات کو کال کی اور کہنے لگی کہ اچھا !سوری اب نہیں منع کروں گی۔ اس کی اور میری فون پہ بات شروع ہو گئی اور یہیں سے بڑی تیزی سے بات کس کرنے تک پہنچ گئی۔فون پہ ہی پیار محبت کے وعدے ہونے لگے۔ ایک اہم بات یہ ہوئی کہ ان دنوں میں نے صائمہ کی لینی بالکل ترک کر دی تھی۔ ایک دن میں سر کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ سر کے محلے میں فوتگی ہو گئی ہے اور ثنا اکیلی ہے، بس یہ بتانے کے لیے کہ آج چھٹی ہے، کیونکہ سر کی وائف گھر پہ نہیں ہیں۔ مجھے موقع مل گیا اور میں نے پہلے تو کس وغیرہ کی اور پھر اسے کہا کہ سیکس کرتے ہیں۔ اس نے بہت منع کیا مگر میں نے اس کو بڑی مشکل سے راضی کر لیا۔حیرت اس کی تھی کہ اس کو سیکس سے کوئی مسلئہ نہیں تھا وہ کنوارہ پن نہیں کھونا چاہتی تھی۔وہ یہاں تک بولی کہ اوپر رکھ لینا، اندر مت اتارنا۔مگر یہ کیسے ممکن تھا؟قمیض تو اس نے بنا کسی دقت اتروا لی بس شلوار کے معاملے میں اس نے بہت مزاحمت کی۔بار بار روہانسی ہو جاتی، مجھے یہ تھا کہ پہلی بار کوئی ایسی ملی ہے جو معیار کے مطابق ہے۔باقاعدہ پیار محبت والا سین ہے اور گرل فرینڈ کہلائی جا سکتی ہے۔ میں نے اس کی تنگ اور کسی ہوئی چوت پہ لن رکھا تو مجھے لگا کہ جیسے اس میں گھسے گا ہی نہیں کیونکہ وہ خاصی تنگ تھی اور کئی کوششوں کے بعد گھسا، وہ بھی تب جب وہ مکمل گیلی ہو گئی۔ میں نے پردہ بکارت بھی پہلی بار دیکھا تھا۔وہ کنواری تھی اور پہلی بار میں نے کسی لڑکی کی سیل توڑی۔ یقین مانیں تو بالکل بھی اچھا نہیں لگا۔ لڑکی کا خون دیکھنا،اس کا رونا دھونا،درد سے تڑپنا،برا بھلا کہنا، ناراض ہونا اور خود لن کو بھی زور لگانے کی وجہ سے جلن اور تکلیف کا احساس ہونا۔ مگر مجھے پردہ پھٹنے والے جھٹکے کی فیلنگ صاف محسوس ہوئی تھی اور اس جھٹکے سے اس کا رونا اور بلکنا بھی یاد ہے۔میں بھی جلد فارغ ہوا اور جان بوجھ کر میں نے کوشش کی کہ جلد چھوٹ جاؤں کیونکہ اس نے رو رو کر برا حال کر لیا تھا۔ جب میں فارغ ہوا تو وہ بہت سخت ناراض ہوئی اور اس کو چپ کروانے میں بہت دیر لگی۔ میں خود بھی ڈر گیا تھا کہ اب کیا ہو گا۔اس کا خون رک ہی نہیں رہا تھا۔وہ دھو کر آتی تو پھر سے خون نکل آتا۔ بہرحال یہ بالکل بھی اچھا سیکس ثابت نہ ہوا اور سب سے بری بات یہ ہوئی کہ اس نے سرے سے قطع تعلق کر لیا اور میری اب تک اس سے دوبارہ ملاقات نہیں ہو سکی۔ حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ وہ کہاں رہتی ہے اور کہاں اس کا کلینک ہے۔اس کے نام کا بورڈ بھی گزرتے مجھے دکھائی دیتا ہے۔ میں نے سب سے پہلے سیکس کہانی اسی کے متعلق لکھی تھی۔ وہ دس سال پہلے ٹیوشن سیکس کے نام سے پوسٹ کی تھی۔ ذاتی طور پہ میں نے کنواری لڑکی کے ساتھ کو خاص انجوائے نہیں کیا۔ جب جب بھی کیا۔ ایک نفسیاتی احساس برتری تو ہوتا ہے کہ اس لڑکی کا پہلا مرد میں ہوں مگر اس کے علاوہ کوئی خاص جنسی لطف نہیں ملتا۔ بس نارمل سا ہی سیکس ہوتا ہے اور لڑکی کا رسپانس بھی بہت اچھا نہیں ہوتا۔ تین چار بار کرنے کے بعد جا کر وہ کچھ نارمل ہوتی ہے۔
  4. وعدہ اس نے مجھ سے تو کیا ہی نہیں تھا۔کیں خاصا اکڑو تھا اور کسی سے فیور لینا پسند نہیں کرتا تھا۔ وہ دوسرے کئیوں کو لارے لگاتا تھا۔ صائمہ کی لینے کے ساتھ ساتھ میں اپنی طرح کی لڑکیوں سے دوستی کی ہر وقت کوشش میں ہوتا تھا۔ اکیڈمی اور کالج میں یہ کوشش رہتی تھی مگر کامیابی نہیں ملتی تھی۔ یہ صرف پانی نکالنے کا ذریعہ تھی اور مجھے پسند نہیں تھی۔ میں کسی لڑکی کو کبھی نہیں بتاتا تھا کہ میں نے لی ہوئی ہے اور ایک کو بتایا تو وہ الٹا دینے کو تیار ہو گئی۔
  5. نہیں اس کا کنواراپن میں نے نہیں توڑا تھا۔پہلی بار ہی جب ڈالا تھا تو اس نے درد بھری آہیں تو لیں اور معمولی رونا بھی شروع کیا مگر کوئی سیل یا کوئی خون نہیں نکلا۔ نہ ہی زیادہ تنگی محسوس ہوئی ہاں میں فارغ بہت جلدی ہو گیا۔شاید چار یا پانچ جھٹکوں میں۔ کنوارہ پن اسی دور میں ایک ٹیوشن کی لڑکی کا توڑا تھا جو پہلی باقاعدہ گرل فرینڈ بنی تھی۔ اس کے بعد سب سے زیادہ عرصہ رہنے والی گرل فرینڈ اور سب سے آخری والی کنواری تھیں۔ باقی کوئی بھی کنواری نہیں تھی۔
  6. دراصل وہ بڑی دبو قسم کی تھی جو بالکل بھی کسی بات میں مزاحمت نہیں کرتی تھی۔ اس کی تعلیم بھی کم تھی اور اس میں شدید اعتماد کی کمی تھی۔وہ آٹھ جماعتیں پاس تھی اور شکل کی اچھی تھی مگر بہت ہی چپ چپ تھی۔اکیلی الگ تھلگ بیٹھی دکھائی دیتی تھی۔ میں نے ایک بار بلایا ہلکا سا ہنسی مذاق کیا اور پکڑ کر چومنا شروع کر دیا۔ اس نے بالکل بھی مزاحمت نہیں کی۔بس آنسو بہانے لگی۔ میں نے تین چار بار کیا اور اسے باقاعدہ لٹا کر اوپر چڑھ کر سب کچھ کیا مگر اس نے کبھی بھی کوئی بات نہیں کی۔بس چپ چاپ لیٹی رہتی، جب میں چھوڑتا تو اٹھتی، کپڑے ٹھیک کرتی اور چلی جاتی۔ پھر ایک دن وہ اکیلی تھی تو میں اس کو لے کر کمرے میں گھس گیا اور اسے چود دیا۔ اس نے اس پہ بھی کوئی مزاحمت نہیں کی۔مگر چدنے کے بعد کچھ دیر روتی رہی۔اس کے بعد اس نے رونا بھی بند کر دیا۔یہ سیکس بس چھ سات جھٹکوں تک محدود تھا۔ یہی نہیں اگلے کئی درجن سیکس بس داخل کرنے اور ہلنے تک رہے۔ پھر یہ ہونے لگا کہ میں اسے پکڑتا، لٹاتا وہ لیٹ جاتی،(عام طور پہ صرف شلوار) کپڑے اتارتا،اس میں فارغ ہوتا اور اٹھ جاتا۔ وہ اٹھتی شلوار پہنتی اور چلی جاتی۔ایک بھی لفظ نہ بولتی۔مجھے کئی بار لگتا کہ میں اس کے ساتھ زورزبردستی کرتا ہوں مگر وہ جب بنا بلائے خود ہی آ جاتی اور آتے ہی لیٹ جاتی تو میرے خیال کی نفی ہو جاتی کہ اس کی بھی مکمل مرضی شامل ہے۔ میں نے سیکس کا تجربہ اسی پہ حاصل کیا مگر لڑکیوں کا تجربہ مجھے پہلی گرل فرینڈ بنانے کے بعد ہوا کہ کیسے بات کرنی ہے، کیسے اس کے ساتھ پیش آنا ہے اور کیسے بھانپنا ہے کہ لڑکی کس نہج پہ ہے۔ میں نے جب یونیورسٹی میں آ کر سیکس کرنا شروع کیا تو اس وقت واقعی میں سیکس میں بہت بہتر تھا اور لڑکیاں انجوائے کرتی تھیں اور میں خود بھی پہلی بار کے سیکس کو یاد کر کے ہنستا تھا۔ کرن کی جہاں تک بات تھی، وہ دھیرے دھیرے اس طرف آ تو رہی تھی مگر پھر شاید اس کو اندازہ ہو گیا کہ میں تنہائی میں اس کی لینے سے بالکل نہیں رکوں گا تو بدک گئی اور چلی گئی۔بعد کے ٹیلی فونک رابطے میں بھی اس نے ہمیشہ میری چھیڑ چھاڑ کو ناپسندیدہ ہی کہا۔
  7. اس دور میں اور اس عمر میں کم ہی لوگ تھے حلقہ احباب میں جن کو سیکس میسر تھا اور اس باقاعدگی سے میسر تھا۔ مجھے صائمہ کی صورت میں جو کہ ہفتے میں تین سے چار بار اور کبھی کبھار تو دن میں ایک سے زیادہ بار مل جاتی تھی۔ وقفہ ہو جاتا تو بعض اوقات مہینے دو چھٹی ہو جاتی۔صائمہ نے خوب مزے کروائے اور اس سے کسی قسم کا کوئی لگاؤ نہیں تھا۔وہ بالکل بھی پسند نہیں تھی مگر فراغت کا بہترین ذریعہ تھی۔ سب سے بری بات اس کا نہ بولنا تھا۔ میں اسے پیریڈز کے دوران بھی نہیں بخشتا تھا اور اس کی شلوار اتار کر پھدی کے لبوں کے درمیان مسلتا،جب بھیگ کر لیس دار ہو کر چھوٹنے والا ہو جاتا تو دونوں پستانوں کے درمیان والی لکیر یا گہرائی میں فارغ ہوتا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس سے اس کو بہت الجھن ہوتی ہے اور وہ مشکل سے برا سے کئی بار بہتے منی کو صاف کرتی مگر منہ سے کچھ نہ بولتی۔ وی سی آر دور تھا،ایک سنی دیول کی فلم تھی ضدی۔ اس کی کیسٹ کےاینڈ پہ خالی جگہ تھی۔ وہاں بیس منٹ کی ایک انگلش مووی کاپی کی ہوئی تھی کاما سترا ۲ کے نام سے ڈبل ایکس۔اس میں دس بارہ سیکس پوزیشنز تھیں۔ جب اکیلا ہوتا وہ فلم فارورڈ کر کے وہ منظر دیکھتا۔ دیکھ کر فلم واپس کہیں پیچھے لے آتا۔اگلی بار چانس ملتا تو ان کو صائمہ پہ آزماتا۔ دو چار کوششوں میں کامیاب ہو ہی جاتا تھا۔ میرے علاوہ ایک دوست تھا جس کی ماں پرانی نرس تھی اور اس نے ایک قسم کا کلینک بنا رکھا تھا۔ اس کے کلینک پہ ایک عیسائی عورت کام کرتی تھی جس کی شادی شدہ بیٹی اس کو میسر تھی،وہ گھر پہ ہوتا تھا جب اس کی ماں اس لڑکی کو بھیجتی کہ جاؤ اس کو کھانا دے آؤ۔ وہ کھانا دینے آتی اور چدوا کر جاتی تھی۔ مجھ سے بھی زیادہ فراوانی میں اس کو اس کی ملتی تھی۔ وہ تو روز ہی لیتا تھا اور جب بھی ہمیں ملتا یہی معلوم ہوتا کہ ابھی ابھی اس کی لے کر آیا ہے۔ وہ ہمیشہ وعدہ کرتا تھا مگر کبھی اس نے اس لڑکی کی کسی اور کو نہیں لے کر دی تھی۔
  8. ایک لڑکی جس کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ میں اس کی لیتا رہا تھا جب اس کی فیملی ہمارے گھر پہ رہتی تھی۔ وہ پہلی لڑکی تھی جس پہ میں نے تسلی سے جنسی تجربہ حاصل کیا اور بڑے سکون سے اس کی لیتا رہا۔اس کا نام ہم صائمہ رکھ لیتے ہیں کیونکہ اس سے ملتا جلتا تھا۔ اسے زیادہ تر میں گھر کے گیراج میں چودتا تھا۔ وہ اوپر والے پورشن سے گیراج میں آ جاتی اور یہاں ایک سٹور تھا جس میں عموماً ننگے فرش پہ ہی لٹا کر اس کی لیتا تھا۔کبھی کبھار وہ اکیلی بھی ہوتی کیونکہ اس کی بھابھی کہیں گئی ہوتی اور اسے گھر پہ چھوٹے بچوں کے پاس چھوڑ جاتی۔تب سکون سے اس کے پاس گھنٹہ دو بیٹھ کر سیکس ہوتا تھا۔میں نے اس پہ ساری سیکس پوزیشنز ٹرائی کی تھیں۔آگے پیچھے سے ، اوپر لٹا کر، نیچے لٹا کر اور کھڑا کر کے، غرض جس طرح دل چاہتا تھا اس کو چودتا تھا۔میری ٹائمنگ بھی اسی پہ سیٹ ہوئی تھی اور اسی پہ میں نے انزال سے قبل رکنے کا تجربہ حاصل کیا تھا۔ اس کے اور میرے درمیان بات چیت بھی کم ہوتی تھی۔لڑکی نے کبھی کسی بات کا جواب نہیں دیا تھا ، میں پوچھتا کہ مزا آ رہا ہے تو کوئی جواب نہ دیتی۔کچھ بھی پوچھتا تو خاموشی سے منہ پھیر لیتی۔ مگر جب بھی بلاتا چپ چاپ آ جاتی اور کئی بار بنا میرے بلائے بھی آ جاتی۔میں دروازہ کھولتا وہ موجود ہوتی، میں اسے جہاں کا چانس بنتا، گیراج یا گھر میں کسی اور جگہ تو وہیں اس کو چود کر فارغ کر کے بجھوا دیتا۔ اس کی بڑی بہن کی شادی تھی اور وہ خوب تیار ہو کر گھوم رہی تھی۔ میرا اسے چودنے کا بڑا دل کرنے لگا کیونکہ وہ پہلی بار اتنے مناسب حلیے میں تھی۔مگر گھر میں مہمان تھے تو کوئی چانس نہیں بن رہا تھا۔ بہرحال میں نے اسے دو چار بار بلایا مگر وہ نہ آئی۔ مجھے بھی خوب سیکس کی طلب تھی کچھ اس کی تیاری نے بھی بھڑکایا ہوا تھا کہ میں بار بار اس کے اردگرد منڈلا رہا تھا۔آخرکار وہ مجھے مل گئی تو میں نے اسے چھت کی سیڑھیوں پہ جلدی جلدی میں چود دیا۔ یہ سیکس اس قدر برا ثابت ہوا کہ اس کے پیریڈز مس ہو گئے اور مجھے باقاعدہ حمل ضائع کرنے کی دوا لا کر دینا پڑی۔جب انھوں نے گھر چھوڑا تو ایک گلی پیچھے ہی کرائے پہ گھر لے لیا۔ میرا بھی لاہور ایڈمشن ہو گیا تو میں لاہور آ گیا مگر اکثر سیکس کی طلب ہوتی تو جب گھر جاتا تو ان کے گھر کا چکر لگاتا کہ شاید سین بن جائے۔ سیکس کا تو نہیں بنا کبھی، ایک دو بار فورپلے کا سین بن گیا۔جب بھی اس کی ملی تبھی مل پائی جب وہ ہمارے گھر آئی۔ میں جب گھر آتا صائمہ کے گھر جا کر اسے اشارہ دے دیتا کہ میں آیا ہوا ہوں، وہ کسی وقت آ جاتی اور اکثر گیراج میں چد کر ہی اندر جاتی۔ خیر، اس لڑکی صائمہ کے متعلق ایک واقعہ بتانا چاہ رہا تھا کہ ایک بار میں گھر پہ اکیلا تھا اور ایک لڑکی جو ہمارے پڑوسیوں کی رشتہ دار تھی اور جب بھی ان کے گھر آتی ہمارے گھر چکر لگاتی۔ وہ بھی لاہور میں پڑھتی تھی اور میرا اس سے وقتی تعلق لاہور سے تھا۔ وہ گھر پہ آ گئی،اسے ہم کرن کہتے ہیں۔مجھے اندازہ تھا کہ یہ بھی مان جائے گی۔میں اسے بیڈروم میں لے کر بیٹھا ہوا تھا اور باتیں ہیجان انگیزی کی طرف جا رہی تھیں۔ قریب تھا کہ میں پیش قدمی کر دیتا اور اسے چودنے کی کوشش کرتا کہ بیل بجی اور صائمہ آ گئی جس کا اوپر ذکر کیا ہے۔اسے معلوم تھا کہ میں اکیلا ہوں تو وہ کسی بہانے سے چدنے آ گئی تھی۔میں مشکل میں پھنس گیا کہ صائمہ کی لوں یا کرن کی؟ صائمہ کی تو کنفرم تھی کہ بس اس کو لے جانا ہے اور چود دینا ہے۔ جبکہ کرن کے ساتھ صرف اس درجے بےتکلفی ہے کہ اس پہ ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ خیر،دل نے کرن کو ووٹ دیا کہ اس کی تو سالوں لی ہے تو اس کی لینے کی کوشش کی جائے۔اس لیے میں نے اسے واپس بھیج دیا کہ گھر میں مہمان ہیں۔ واپس آیا تو کرن نے پوچھا کون ہے؟ میں نے بتایا کہ فلاں لڑکی تھی اور کسی کام سے آئی تھی اب واپس چلی گئی ہے۔ وہ کچھ پریشان تھی اور بولی؛ میں چلتی ہوں، ہم اکیلے ہیں اور کسی کو پتا چلا تو ایسے ہی باتیں بنیں گے۔ میں نے روکنے کی کوشش کی مگر وہ جانے کے لیے تیار ہو گئی۔میں نے کہا: اچھا مل تو لو۔ اسی بہانے میں نے گلے لگانے کی کوشش کی تو اس نے مزاحمت کی اور بولی؛ایسا مت کرو۔میں ایسی لڑکی نہیں ہوں اور میں ایسا نہیں کر سکتی۔ مگر پھر بھی کرتے کراتے میں نے اس کا گال کو چوم لیا تو وہ ناراض ہو کر چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد میں صائمہ کے گھر گیا مگر اب اس کا آنا ممکن نہیں رہا تھا۔وہ میرے گھر کسی کام کا بہانہ کر کے آئی تھی اور اب بتا دیا تھا کہ گھر پہ میں اکیلا تھا۔ یوں مجھے کسی کی نہ مل سکی۔صائمہ کی تو اس کے بعد بھی ملتی رہی مگر کرن کی کبھی نہ مل سکی، مگر فون پہ بڑا عرصہ رابطہ رہا۔
  9. ایک بڑا اہم واقعہ ہے کہ یہی دوست جس کے ساتھ اوپر والے واقعے میں مکان شئیر کیا تھا۔اس کے پاس ایک لڑکی پڑھنے آتی تھی۔ لڑکی کی عمر انیس سال کے قریب تھی اور میں اٹھارہ کا تھا۔ مگر دبلی چھوٹے قد کی مگر بلا کا فگر تھا۔ اسے دیکھ کر لگتا تھا کہ کسی بچی کا بریسٹ سائز اتنا ہو گیا ہے۔ وہ کئی بار اکیلی آئی تو میں نے اس کو باتوں میں لگا لیا۔اسی طرح معاملہ کس تک پہنچ گیا اور کپڑے اتار کر کسنگ ہونے لگی اور بنا ڈالے باقی سب ہونے لگس۔وہ ڈلوانے سے ڈر رہی تھی مگر پھر نیم رضامندی دینے لگی۔ ایکدن میں نے اسے چودنے کے لئے لٹا دیا۔ وہ بھی فل راضی ہو گئی تھی۔ میں نے اسے ننگا کر دیا اور کنڈوم چڑھا رہا تھا کہ دوست کی کال آئی،موبائل لڑکی کے قریب تھا اس نے اٹینڈ کر کے سپیکر پہ کر دیا،دوست بولا کہ وہ آئی تو نہیں؟ میں نے جھوٹ بولا کہ ابھی نہیں تو وہ لڑکی تو ننگی میرے سامنے تھی اور اس کے ہاتھ میں موبائل تھا۔وہ بولا: یار! میں نے اس کو پرپوز کرنا ہے اور اس سے شادی کرنی ہے۔ اس بات سے لڑکی کو بہت شاک لگا ، اس نے کپڑے پہنے اور چلی گئی۔مجھے بھی بڑی شرمندگی ہوئی کہ دوست کی محبت کو چودنے لگا تھا۔ بہرحال دوست سے بھی اس کی شادی نہ ہوئی۔ نہ اسے ملی اور نہ مجھے اس کی مل سکی۔
  10. شک کے دائرے میں آنے کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو لڑکیوں کی روٹین کی تبدیلی کہ وہ اکثر غائب رہے۔ وہ گم ہو جاتی ہو جاتی ہو کسی ایک بندے سے اس کی دوسروں کی نسبت زیادہ اچھی بنتی ہو۔ یا ایک ہی فرد سے باتیں کرتی پائی جائے۔ شک تو ہو جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کے لواحقین اس اینگل سے بھی سوچتے ہیں کہ کس بندے سے اس کا چکر ہو سکتا ہے تو اس سانچے میں عمر،جسامت،موقع ،دیگر عوامل کے جو پورا اترتا ہو اسی پہ شک جاتا ہے۔ میرے ساتھ ایسا کم ہی ہوا ہے کہ لڑکی محلے کے کسی بندے سے کروا رہی ہو اور کسی کو شک تک نہ ہو۔ کسی نے تو دیکھا ہی ہو گا جس سے شک پیدا ہو سکے۔
  11. میں لاہور میں ایک جگہ پی انگ گیسٹ رہتا تھا۔ میرے ساتھ ایک جاننے والا کمرا شئیر کرتا تھا۔ میں میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کر رہا تھا۔ میں نے ایک رات گلی میں ایک لڑکا لڑکی کو دیکھا جو کسنگ کر رہے تھے۔ دونوں مجھے دیکھ کر الگ ہو گئے اور چلے گئے۔ میں نے لڑکی کا گھر دیکھ لیا تھا اور دوست سے ذکر کیا تو اس نے لڑکی کا نام بتا دیا اور اس کے کارنامے بھی کہ یہ کافی لڑکوں کے ساتھ فری ہے۔ کچھ ہفتوں بعد وہی لڑکی مجھے ایک شاپ پہ ملی اور اس نے بتایا کہ میں بھی وہیں رہتی ہوں اور نام لیا تو مجھے یاد آ گیا کہ یہ وہ والی ہے۔ ایک بار مجھے روڈ پہ ملی جسے میں نے بائیک پہ اس کی بتائی جگہ پہ چھوڑ دیا۔ ایک دو بار کہیں ملی تو میں نے کچھ کھلا دیا، نمبر پہلے ہی تھا اس کے پاس۔ ہلکی پھلکی باتیں ہو جاتی تھیں اس سے۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا کہ میں کوئی جنسی بات کر جاتا تو وہ مصنوعی مائنڈ کرتی مگر اس نے منع نہیں کیا۔جیسے فگر پہ بات ہو رہی تھی تو میں نے کہہ دیا کہ ایسے نہیں پتا چلتا سائز کا۔برا اتار کر منہ میں لے کر معلوم ہوتا ہے تو اس نے مجھے بدتمیز کہا مگر کال بند نہیں کی۔ یہی سلسلہ چلتا رہا اور ایک رات میں نے اس کو بلا لیا۔وہ آ گئی تو میں نے لٹا کر کسنگ کی اور سیکس کرنے کی کوشش کی تو آناکانی کرنے لگی مگر اسی طرح کروا بھی لیا۔میں اس سے قبل تین چار لڑکیوں کی لے چکا تھا اور ایک لڑکی کو تو سال سوا سال دبا کر چودا تھا تو مجھے سیکس کا خاصا تجربہ ہو چکا تھا۔اس نے بھی سیکس کے بعد کہا کہ مجھے بہت مزا آیا ہے۔ لڑکی فرسٹ ائیر میں تھی اور بلا کی لالچی اور چالو تھی۔ شکل کی اچھی تھی اور اس وقت بھی میرے اندازے کے مطابق کئی لڑکوں سے چد چکی تھی۔ دوسری بار اس کو اسی طرح دن کے وقت بلا کر چودا اور بامشکل ایک آدھ بار ہی چود پایا تھا کہ اس کے گھر والوں کو مجھ پہ شک ہو گیا۔ کچھ غلط مسیجز بھی اس کے پکڑے گئے۔ مجھے نمبر بدلنا پڑا اور جلد ہی میں مکان بھی بدل لیا۔ اس کے ساتھ کسی قسم کی جذباتی وابستگی نہیں تھی بس اس کی لینے کا ہی سین تھا۔
  12. اصل میں اس کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔ اس نے کہیں باتوں میں کہہ دیا کہ میں نے دیکھا کہ فلاں میری باجی کے اوپر لیٹا ہوا تھا اور ہل رہا تھا۔میں نے دیکھا کہ اس نے باجی کی شلوار آدھی اتاری ہوئی تھی۔ وہ اور باجی اکثر ساتھ ہوتے ہیں اور مجھے کہیں باہر بھیج دیتے ہیں۔ اب اس کی کہانی تو اتنی سی تھی جب بات کھلی تو سننے والوں نے اس کہانی کو جب بڑھا چڑھا کر بیان کیا تو یہ منظر کشی ہونے لگی کہ اس نے بہن کو مکمل چدتے دیکھا ہے۔وہ پوری نہ سہی تو کسی حد تک چدتی تھی۔ جب اسے آگاہی ہوئی تب اس نے کہیں بول دیا تو بات اس قدر پھیلی کہ آتے جاتے لوگ کہتے تھے کہ اس کے سامنے اس کی بہن کو فلاں چودتا تھا۔ کچھ اسے بھی دیر سے سمجھ آیا کہ بہن اور فلاں بندہ اکیلے میں مل کر کیا گل کھلاتے تھے۔ اسی طرح ایک لڑکا تھا جسے کسی نے سموسے دیئے اور اس نے اس کی بہن کا برا منگوا لیا اور اس میں منی خارج کر کے اسے بولا کہ واپس جہاں سے لیا ہے رکھ دے۔ بڑا عرصہ یہ بات سننے کو ملی کہ اس نے سموسے کے بدلے بہن کی مموں تک فلاں کا منی پہنچا دیا۔ اب اسے سمجھ نہیں تھی،اس نے تو کوئی کہانی گھڑ کر برا منگوایا ہو گا کہ مجھے سائز دیکھنا ہے اور کسی کے لیے لینا ہے یا کوئی ایسی اور کہانی۔ وہ ناسمجھ تھا اور جب تک سمجھتا بات مشہور ہو گئی تھی۔
  13. کہانی کا جتنا حصہ پوسٹ ہوا ہے وہ شاندار ہے۔ بہت ہی عمدہ کہانی ہے اور اسے پڑھ کر بہت مزا آیا۔ امید کرتے ہیں کہ آگے بھی کہانی اسی طرح چلے گی۔
  14. ان دنوں پردیس پہ کام چل رہا ہے اس لیے اس کی اپڈیٹ ذرا دور ہے۔
  15. یہ وہی موقع والی بات ہے۔ ایک لڑکا تھا جسے دوسری تیسری جماعت میں سب علم تھا کیونکہ اس کے دو بڑے بھائی تھے اور ایک چچا تھا۔ اس کا چاچا ایک لڑکی کو چودتا تھا اور اس نے باقاعدہ اس کو کرتے دیکھا تھا۔ اس نے بچہ سمجھ کر اگنور کیا مگر اس کو سب سمجھ آ گیا۔ پہلے صرف اتنا کہ لن لڑکی کے اندر گھسایا جاتا ہے۔بعد میں پورا علم مل گیا کہ کیسے ، کس لیے اور کس نیت سے؟ اس کے لیے موبائل کی ضرورت نہیں ہے بس چانس کی ہے۔ جس کے پاس ایسا چانس ہے کہ اس کو علم ہو جائے اس کو جلد ہو جاتا ہے، جس کو ایسا چانس نہ بنے تو اس کو بڑی دیر سے پتا چلتا ہے۔ ہمارا ایک دوست تھا جو ماں باپ کا اکلوتا تھا۔ اسے کم ہی گھر سے نکلنے دیا جاتا تھا۔ وہ گھر پہ ہی رہتا اور ماں باپ بہت ایکسٹرا کیئر کرتے۔ وہ میٹرک میں بھی ٹھیک سے سیکس کے متعلق نہیں جانتا تھا کیونکہ اس کی صحبت ہی ایسی تھی کہ اس کو علم نہ ہو سکا۔ اسی طرح ایک موٹا سا لڑکا تھا اس نے کم عمری میں اپنی بڑی بہن کو چدتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس نے لڑکوں کو بتایا تو اسے انھوں نے بتایا کہ بھئی فلاں بندہ تیری بہن کی لے رہا ہے۔اس طرح اس کی اس بےوقوفی نے سب کے سامنے اس کی بہن کا راز فاش کر دیا اور اس کی بہن بدنام بھی ہوئی اور وہ خود بھی بڑا شرمندہ رہا سالوں تک۔
×
×
  • Create New...