Jump to content
URDU FUN CLUB
Parvez

سیکس پر مبنی زندگی کے حقیقی واقعات

Recommended Posts

1 hour ago, Parvez said:

اف ف ف انتہائ مزیدار.  آپ نے تو کمال سین ذکر کیے.  بہت خوب پڑھ کر انتہائ مزہ آیا.  خوب انداذ میں ذکر کیے.  آپ نے افتتاح تو گانڈ سے کیا.  پھر سیل بھی توڑی اور سیکس کرتے رہے. اس سے پہلے کتنا عرصہ رومانس ممے چوسنا لنڈ چسوانا . واہ.  آپ نے پہلے بھی ذکر کیا تھا اب بھی کیا کہ لڑکی کو خوف  ڈر ہوتا  ہوتا ہے سیل تڑوانے سے لیکن چاہ بھی رہی ہوتی ہے جس طرح اس میں  جب آپ نے نادیہ کی سیل توڑ دی تو اس نے کہا کہ میں کب سے چاہ رہی تھی.  جبکہ پہلے وہ رکاوٹیں اور انکار کررہی تھی اس کی کیا وجہ ہے 

ڈاکٹر صاحب آپ بھی اس پر روشنی ڈالیں  

جیسا کہ میں نے نادیہ کا تفصیل سے بتایا کہ پہلی کوشس کامیاب نہیں ہوئی اور جگہ کی مناسبت، درد اور میری کچھ نا تجربہ کاری کی وجہ سے اس کی سیل بچ گئی اور وہ مجھ سے ناراض بھی ہو گیی. لیکن کچھ دنوں کے بعد فون سیکس کے دوران جب وہ بہت گرم ہو جاتی تو مجھے کہتی.. اس دن تم نے لن پھدی میں کیوں نہیں ڈالا؟ تو میں کہتا کہ جان تم رونے لگ گئی تھی نا اس لئے میں رک گیا. تو وہ کہتی کچھ بھی تھا لیکن تم ایک بار تو پورا اندر ڈال دیتے. اور اگلی ملاقاتوں میں بھی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ تیار ہے لیکن مناسب جگہ نہ ہونے کی وجہ سے تھوڑا ڈری ہوئی ہے.

اور پھر جب اس کو اپنے گھر میں تنہائی میسر آیی تو اس نے مجھے بلایا اور میرے ایک بار کہنے پر وہ تیار ہو گئی اور سیل تڑوا لی. درد کی شکایت اور رونا اس دن بھی تھا لیکن بیڈ پر لٹا کر تسلی سے پھدی مارنے اور کسی پارک میں جلدی میں کھڑے کھڑے لینے سے بھی بہت فرق پڑتا ہے.

خیر میری یہ بات اپنے تجربے اور مشاہدے کے حوالے سے تھی.لیکن کافی ایسی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں جو کہ ہر حال میں شادی تک اپنا کنوارا پن بچا کر رکھنا چاہتی ہیں اور اپنے منگیتر تک کو شادی سے پہلے نہیں دیتی. نادیہ کے کیس میں جب ہماری بات شروع ہوئی تو اس کو سیکس کی الف ب بھی نہیں پتا تھی اور یہ وہ لڑکی تھی جو بچپن سے ہی کبھی اپنے کزنز کے ساتھ بھی بلکل بے تکلف نہیں ہوئی تھی. لیکن میرے ساتھ اس کو ایک ایسا بھروسہ مند دوست ملا جس کے سامنے وہ پوری طرح کھل کر اپنے اندر دبی ہوئی خواہشیں بیان کرتی تھی. اس نے مجھے یہ بھی کہا تھا کہ مجھے پتا ہے کہ میری تم سے شادی مشکل ہے لیکن میں نے دل میں سوچ لیا تھا کہ پہلی بار تم سے ہی کرواؤں گی.                   

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

1 hour ago, HIdden Lover said:

جیسا کہ میں نے نادیہ کا تفصیل سے بتایا کہ پہلی کوشس کامیاب نہیں ہوئی اور جگہ کی مناسبت، درد اور میری کچھ نا تجربہ کاری کی وجہ سے اس کی سیل بچ گئی اور وہ مجھ سے ناراض بھی ہو گیی. لیکن کچھ دنوں کے بعد فون سیکس کے دوران جب وہ بہت گرم ہو جاتی تو مجھے کہتی.. اس دن تم نے لن پھدی میں کیوں نہیں ڈالا؟ تو میں کہتا کہ جان تم رونے لگ گئی تھی نا اس لئے میں رک گیا. تو وہ کہتی کچھ بھی تھا لیکن تم ایک بار تو پورا اندر ڈال دیتے. اور اگلی ملاقاتوں میں بھی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ تیار ہے لیکن مناسب جگہ نہ ہونے کی وجہ سے تھوڑا ڈری ہوئی ہے.

اور پھر جب اس کو اپنے گھر میں تنہائی میسر آیی تو اس نے مجھے بلایا اور میرے ایک بار کہنے پر وہ تیار ہو گئی اور سیل تڑوا لی. درد کی شکایت اور رونا اس دن بھی تھا لیکن بیڈ پر لٹا کر تسلی سے پھدی مارنے اور کسی پارک میں جلدی میں کھڑے کھڑے لینے سے بھی بہت فرق پڑتا ہے.

خیر میری یہ بات اپنے تجربے اور مشاہدے کے حوالے سے تھی.لیکن کافی ایسی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں جو کہ ہر حال میں شادی تک اپنا کنوارا پن بچا کر رکھنا چاہتی ہیں اور اپنے منگیتر تک کو شادی سے پہلے نہیں دیتی. نادیہ کے کیس میں جب ہماری بات شروع ہوئی تو اس کو سیکس کی الف ب بھی نہیں پتا تھی اور یہ وہ لڑکی تھی جو بچپن سے ہی کبھی اپنے کزنز کے ساتھ بھی بلکل بے تکلف نہیں ہوئی تھی. لیکن میرے ساتھ اس کو ایک ایسا بھروسہ مند دوست ملا جس کے سامنے وہ پوری طرح کھل کر اپنے اندر دبی ہوئی خواہشیں بیان کرتی تھی. اس نے مجھے یہ بھی کہا تھا کہ مجھے پتا ہے کہ میری تم سے شادی مشکل ہے لیکن میں نے دل میں سوچ لیا تھا کہ پہلی بار تم سے ہی کرواؤں گی.                   

ہم ٹھیک کہا.  لڑکی اپنے دل میں کیا محسوس کررہی کیا چاہ رہی ہے جاننا بہت مشکل ہے.  بہت ہی کم لوگ ہیں جن کو اس پر عبور حاصل ہے. آج سیکس اس لیے آسان ہوگیا ہے کہ آگے پیچھے ہر چیز سیکس کی طرف لے جانے والی ہے. 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
8 hours ago, DR KHAN said:

کچھ سال پہلے میں کراچی سے لاہور بذریعہ ٹرین آ رہا تھا اور میری سیٹ ایک فیملی کے ساتھ تھی۔ میں نے کوشش کی سیٹ تبدیل ہو جائے اور میں کسی اور کیبن میں منتقل ہو جاؤں جہاں کم از کم سارے مرد ہوں۔ یوں کچھ مناسب نہیں محسوس ہو رہا تھا مگر کسی بھی کیبن میں جگہ نہیں تھی۔ کوئی ایسا موقع تھا جب گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں تو ان دنوں سیٹوں کو مسلئہ ہو جایا کرتا ہے۔

بہرحال اس فیملی کے بزرگ سے بات چیت ہوئی اور میں ٹائم سے ہی سونے کے لیے لیٹ گیا۔

کچھ ہفتوں بعد مجھے فیس بک پہ اسی فیملی کی ایک لڑکی جو اس رات بھی ساتھ تھی ، نے ایڈ کیا۔رسمی باتوں کے بعد ہلکی پھلکی بات چیت ہونے لگی۔ پھر ایک بار اس نے مجھے بتایا کہ فلاں جگہ اتنے بجے ہوتی ہوں تو یہ سیدھا سیدھا اشارہ تھا کہ تم مل سکتے ہو۔ میں اس سے ملا اور ساتھ کھانے پہ لے گیا۔ اسی طرح دو تین ملاقاتوں کے بعد بات کسنگ تک پہنچ گئی۔ان دنوں فورٹریس والا ہائپر سٹار نیا نیا بنا تھا اور وہاں پہ اس کے ساتھ ملاقات ہوتی تھی اور وہی گاڑی میں جتنی ممکن ہوتی تھی اتنی کس ہو جاتی تھی۔ اس سے سیکس کا بھی وعدہ تھا مگر یہ کبھی ہو نہ سکا۔

اسی لڑکی کے توسط سے ایک لڑکی سے رابطہ ہوا جو اس کی دوست کی کزن تھی۔ وہ ایک ریسٹورنٹ میں  ریسپنسٹ تھی اور کبھی کبھار کھانا کھانے جاتے تو  اس سے ہلکی پھلکی بات ہو جاتی۔

اس کا نمبر مجھے مل گیا تو ایک دوبار ایسے ہی میں نے اس سے کہا کہ کسی دن میں آپ کو یہاں کھانا کھلاؤں ؟ تو وہ بولی: کھانے کا کوئی مسلئہ نہیں ہے آپ مجھے کوئی سوٹ گفٹ کرنا۔میری آدھی انکم ڈریسنگ میں لگتی ہے۔ یہ بات مذاق میں ہی تھی مگر میں نے سچ میں اس کے لیے ایک بار سوٹ لے لیا۔ جب اسے دیا تو وہ خاصی حیران ہوئی اور خاصی پشیمان بھی کہ ایسا مذاق میں کیوں کہا؟ خیر، وہ تین چار بار مجھ سے ملی اور ایک بار میں اسے گھر لے گیا تو اس نے پہلی ہی کوشش میں مجھ سے پورے جوش سے سیکس کروا لیا۔

اس کے بعد میرا اس کی شادی ہو جانے تک یہ معمول رہا کہ میں اسے کوئی نہ کوئی چیز گفٹ کرتا اور جب جب دل چاہتا، اسے بلا کر سیکس کرتا۔لڑکی اچھی تھی مگر اس کی مالی حالت خاصی خراب تھی۔ وہ اکثر کہتی تھی کہ مجھے گفٹ مت دیا کرو، مجھے کال گرل جیسی فیل آتی ہے کہ تحفہ لیا اور سیکس کروا لیا۔میں جب جب سیکس کرتا تب تحفہ نہ دیتا۔ جب جب تحفہ دیتا تب سیکس نہ کرتا۔ اس کے ساتھ یہ سلسلہ مہینے میں ایک آدھ بار سیکس کا کئی مہینوں تک رہا۔ اس کا ایک منگیتر بھی تھا جس کے ساتھ بھی اس کا سیکس ریلیشن تھا۔

بہت خوب.. ڈاکٹر صاحب اس ریسپشبسٹ والی لڑکی سے آپ کی وہ بات یاد آگئ کہ جہاں امید نہیں تھی ملنے کی وہاں سے مل گئ. آپ نے ویسے ہے کھانے کا کہہ دیا اس نے سوٹ کا بول دیا پھر سیکس بھی ہوگیا جو پرزور تھا.  واہ ڈاکٹر صاحب 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please sign in to comment

You will be able to leave a comment after signing in



Sign In Now

×
×
  • Create New...